کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی منصوبہ بندی اور کنٹرول افغانستان سے کیا گیا تھا ، وزارت اطلاعات و نشریات

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی منصوبہ بندی اور کنٹرول افغانستان سے کیا گیا تھا۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردوں کے حملے کے حوالے سے سوشل میڈیا ایکس پراپنے بیان میں کہا کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی منصوبہ بندی اور کنٹرول افغانستان سے کیا گیا تھا ۔ وزارت اطلاعات و نشریات …

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی منصوبہ بندی اور کنٹرول افغانستان سے کیا گیا تھا۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردوں کے حملے کے حوالے سے سوشل میڈیا ایکس پراپنے بیان میں کہا کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی منصوبہ بندی اور کنٹرول افغانستان سے کیا گیا تھا ۔

وزارت اطلاعات و نشریات نےاپنے بیان میں واضح کیا کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں خارجی زاہد نے کی اور اس کی حتمی منظوری خارجی نور ولی محسود نے دی تھی۔بیان سے واضح ہے کہ حملے میں شامل تمام افراد افغان تھے اور حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی نور ولی محسود سے ملتے ہیں،وانا میں حملے کے لئے سازوسامان امریکی ساخت کا تھا جو افغانستان سے لایا گیا۔

خارجی نور ولی محسود کے حکم پر ٹی ٹی پی سے حملے کی ذمہ داری ہٹا کر "جیش الہند” نامی تنظیم پر ڈال دی۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ افغان طالبان پاکستان اور دوست ممالک کے اعتراض کے پیش نظر فتنہ الخوارج پر حملوں کی ذمہ داری قبول نہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں،

کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد بھارتی ایجنسی "را” کے مطالبے پر پاکستان میں سکیورٹی خدشات کو بڑھانا تھا، حملے میں ہلاک افغان دہشت گردوں کی شناخت سے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی واضح طور پر ثابت ہوتی ہے۔اس سے قبل وزیر داخلہ نے بھی بیان جاری کیا تھا کہ اسلام آباد کچہری میں خودکش دھماکہ کرنے والا عثمان عرف قاری کا تعلق بھی افغانستان سے ہے۔

مزید خبریں