کے پی حکومت کی دہشت گردی پر مجرمانہ غفلت ناقابل برداشت، صوبے کو طالبان کے اتحادیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف
کے پی حکومت کی دہشت گردی پر مجرمانہ غفلت ناقابل برداشت، صوبے کو طالبان کے اتحادیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی دہشت گردی سے مکمل لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی حد سے بڑھ چکی ہے، اب اہم فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے اور خیبرپختونخوا کے عوام کو طالبان کے اتحادیوں اور نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر مزید نہیں چھوڑا جا سکتا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم’’ ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت ایک ناکام سیاسی لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی ہے جبکہ اسی دوران ان کے سہولت کاروں نے خیبرپختونخوا کے نہتے عوام کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر شروع کر رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں نے کسٹمز کے 2 اہلکاروں سمیت 5 بے گناہ افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا، مگر وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ نے روایتی بے حسی دکھاتے ہوئے نہ تو اس بربریت کی مذمت کی، نہ جنازوں میں شرکت کی اور نہ ہی لواحقین سے تعزیت کی زحمت گوارا کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ اس سنگین واقعے پر افسوس کے برعکس، وزیر اعلیٰ نے اپنی پارٹی کی ایماء پر رات گئے اجلاس طلب کر کے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی سرزنش کی کہ انہوں نے گورنر کی زیر صدارت سکیورٹی اجلاس میں شرکت کیوں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی آگ میں جلتے صوبے کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے جس کے باعث عوام اب خود صوبائی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کے پی کے عوام کا بہت خون بہہ چکا ہے اور اب یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت اور دہشت گردوں کے مابین گٹھ جوڑ اور سہولت کاری کے وافر ثبوت موجود ہیں جو قوم گزشتہ تین سال سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں جب نواز شریف، ان کی فیملی اور ن لیگ کی قیادت کو جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈالا گیا تب بھی مسلم لیگ (ن) نے اداروں کو یرغمال نہیں بنایا بلکہ آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا اور کبھی طالبان سے ہاتھ نہیں ملایا۔خواجہ آصف نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ پاکستان کی سالمیت اور وحدت کو دائو پر لگا کر پورے صوبے کو یرغمال بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، اب بس، بہت ہو چکا۔








