گردوں، جگر اورپیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے پہلی بار روبوٹک سرجری متعارف کرا دی گئی ، ڈاکٹر سعید اختر

اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (پی کے ایل آئی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور سی ای او ڈاکٹر سعید اختر نے کہا ہے کہ ادارے میں گردوں، جگر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے پہلی بار روبوٹک سرجری متعارف کرا دی گئی ہے جبکہ 50 سے 80 فیصد مریضوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مفت علاج فراہم کیا …

اسلام آباد۔15مارچ (اے پی پی):پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (پی کے ایل آئی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور سی ای او ڈاکٹر سعید اختر نے کہا ہے کہ ادارے میں گردوں، جگر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے پہلی بار روبوٹک سرجری متعارف کرا دی گئی ہے جبکہ 50 سے 80 فیصد مریضوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

اتوار کو پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سعید اختر نے کہا کہ حکومت پنجاب کے تعاون سےپاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر ایک مضبوط طبی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور عوامی صحت کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں کے دوران ادارے میں ایک ہزار 200 گردوں کی پیوند کاری، ایک ہزار جگر کی پیوند کاری جبکہ صرف گزشتہ سال ہی 500 روبوٹک سرجریز کامیابی سے انجام دی گئیں۔

ان علاجوں پر اربوں روپے خرچ کیے گئے جبکہ زیادہ تر مریضوں کو مفت یا انتہائی کم قیمت پر سہولیات فراہم کی گئیں۔ڈاکٹر سعید اختر نے کہا کہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر خطے میں اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات فراہم کرتے ہوئے مریضوں کے لیے امید کی کرن بن چکا ہے اور طبی جدت اور مریضوں کی دیکھ بھال میں نئے معیار قائم کر رہا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ادارے میں امیر اور غریب تمام مریضوں کو یکساں عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جو صحت کے شعبے میں برابری اور بہترین خدمات کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے تحقیق اور ادویات کی دریافت کے شعبے تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں اور انہیں جدیدٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیار کے وسائل سے لیس کیا جا رہا ہے تاکہ طبی سائنس میں نئی پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔ڈاکٹر سعید اختر کے مطابق PKLI مستقبل کے سرجنز تیار کرنے پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے اور اس وقت 100 سے زائد نوجوان طبی ماہرین کو جدید تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایک مضبوط اور خود کفیل طبی افرادی قوت تیار کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ادارے میں تقریباً 80 فیصد مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جاتا ہے جو سب کے لیے معیاری اور قابل رسائی صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔ڈاکٹر سعید اختر نے مزید کہا کہ پی کے ایل آئی جدید تشخیصی ٹیسٹوں،ریڈیالوجی سینٹرز اور جدید ٹرانسپلانٹ سہولیات کے ذریعے عالمی سطح پر مقابلہ کر رہا ہے اور طبی شعبے میں نئے معیار قائم کر رہا ہے۔انہوں نے صحت کے شعبے میں مزید ترقی اور اعلیٰ معیار کی خدمات کی امید ظاہر کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

مزید خبریں