نئی دہلی۔30اگست (اے پی پی):بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے نواحی علاقے گروگرام میں مسلمانوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے دھمکی آمیز پوسٹرزچسپاں کئے گئے ہیں، جن میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندوتوا تنظیم وشوا ہندو پریشد کی قیادت میں گروپوں کی جانب سے ضلع نوح میں برج منڈل شوبھا …
گروگرام ،مسلمانوں کو علاقہ چھوڑنے کےلیے دھمکی آمیز پوسٹرز چسپاں

مزید خبریں
نئی دہلی۔30اگست (اے پی پی):بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے نواحی علاقے گروگرام میں مسلمانوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے دھمکی آمیز پوسٹرزچسپاں کئے گئے ہیں، جن میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہندوتوا تنظیم وشوا ہندو پریشد کی قیادت میں گروپوں کی جانب سے ضلع نوح میں برج منڈل شوبھا یاتر ا جو جولائی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کی وجہ سے سے متاثر ہوئی تھی کو دوبارہ شروع کرنےکے لیے پیر کو شوبھا یاترا کی کال سے قبل گروگرام کے سیکٹر 69 میں بعض دکانوں پر پوسٹر چسپاں کیے گئے تھے۔ پوسٹرز میں کچی آبادی کے مکینوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں ورنہ سنگین نتائج کے لیے تیار رہیں۔
ان لوگوں کی اکثریت مغربی بنگال سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئی تھی۔ہجرت کرنے والے مزدوروں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ہندی میں لکھے ہوئے پوسٹرز کو نہیں پڑھ سکتے لیکن انہیں ان کے آجروں نے بتایاہے کہ انہیں علاقہ چھوڑنے کی دھمکی دی گئی ہے۔اس سلسلے میں پولیس کے پاس درج کرائی گئی شکایت میں ایک دکاندار موجد نے کہا کہ اتوار کی صبح اس کی چائے کی دکان پر ایک پوسٹرچسپاں کیاگیاتھاجس میں ہندوتوا تنظیموں وشو اہندو پریشد اور بجرنگ دل نے علاقے کے تمام مسلمانوں کو جان سے مار نے کی دھمکی دیتے ہوئے کہاکہ وہ یہاں سے چلے جائیں ۔پوسٹرز میں مسلم خواتین کی عصمت دری اور ان کی جھونپڑیوں کو جلانے کی بھی دھمکی دی گئی تھی۔








