گرین لینڈ کی خودمختاری پر امریکی دباؤ، مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ

گرین لینڈ کی حکومت نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم جزیرے کی فروخت یا الحاق کے کسی بھی امکان کو واضح طور پر مسترد کر دیا گیا ہے

نوک ۔19مئی (اے پی پی):گرین لینڈ کی حکومت نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم جزیرے کی فروخت یا الحاق کے کسی بھی امکان کو واضح طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔رائٹرز کے مطابق یہ بات گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈرک نیلسن نے امریکی خصوصی نمائندے کے ساتھ ملاقات کے بعد کی ۔امریکی خصوصی ایلچی جیف لینڈری، جوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعینات کیے گئے تھے، اتوار کو گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک پہنچے اور پیر کے روز اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔گرین لینڈ کے وزیرِاعظم نے کہا کہ ان کی ترجیح ایسا حل تلاش کرنا ہے جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو، تاہم ’’الحاق، قبضے یا خریداری‘‘ کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے نے کہا کہ وہ اس دورے کے دوران صورتحال کو سمجھنے اور مقامی مؤقف سننے آئے ہیں، تاہم ان کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکاکے کنٹرول میں لینے یا خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر ڈنمارک اور یورپی ممالک میں تشویش پائی جا رہی ہے۔