اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) موجودہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)کے ذریعے ملک کی ترقی اور معیشت کے استحکام کو اولین ترجیحات میں شامل رکھا ہے، اقتصادی اعشاریوں کو بہتر بنایا، سرمایہ کار دوستانہ پالیسیوں کے ذریعے بالخصوص تیل و گیس کی تلاش کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور نوجوانوں کو ہنر مند …
گزشتہ ایک سال کے دوران سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے ذریعے ملکی ترقی اورمعاشی استحکام اولین حکومتی ترجیحات میں شامل

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) موجودہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی)کے ذریعے ملک کی ترقی اور معیشت کے استحکام کو اولین ترجیحات میں شامل رکھا ہے، اقتصادی اعشاریوں کو بہتر بنایا، سرمایہ کار دوستانہ پالیسیوں کے ذریعے بالخصوص تیل و گیس کی تلاش کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور روزگار کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، ایک سال کے عرصہ میں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں 6 کھرب 38 ارب 90 کروڑ 55 لاکھ 81 ہزار روپے کے فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے 9 خصوصی اقتصادی زونز میں سے تین اقتصادی زونز پر ترقیاتی کام شروع کیا گیا۔ پلاننگ کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے پرائم منسٹر یوتھ ہنرمند پروگرام کے لئے 97 کروڑ 14 لاکھ، سیکورٹی میں اضافے کے لئے 28 ارب 50 کروڑ 40 لاکھ، عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لئے 28 ارب 77 کروڑ 96 لاکھ روپے، ایرا کے لئے 3 ارب 50 کروڑ 55 لاکھ روپے، وفاقی حکومت کے پروگراموں کے لئے 23 ارب 25 کروڑ، ضم شدہ اضلاع کے 10 سالہ منصوبہ کے تحت 10 ارب روپے، گلگت بلتستان بلاک کے لئے 16 ارب 31 کروڑ 13 لاکھ روپے، اے جے کے بلاک کے لئے 26 ارب 8 کروڑ 72 لاکھ روپے، این ٹی ڈی سی، پیپکو کے لئے 13 ارب 89 کروڑ 86 لاکھ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لئے 2 کھرب 30 ارب 84 کروڑ 50 لاکھ روپے، واٹر ریسورس ڈویژن کے لئے 76 ارب 67 کروڑ 53 لاکھ روپے، ٹیکسٹائل انڈسٹری ڈویژن کے لئے 6 کروڑ 14 لاکھ، سپارکو کے لئے 16 ارب 26 کروڑ 88 لاکھ، شماریات ڈویژن کے لئے 13 کروڑ 20 لاکھ روپے، سرحدی امور ڈویژن کے لئے 26 ارب 57 کروڑ 18 لاکھ، سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ ڈویژن کے لئے 75 کروڑ 75 لاکھ روپے، ریونیو ڈویژن کے لئے 3 ارب 51 کروڑ 10 لاکھ روپے، بین المذاہب ہم آہنگی ڈویژن کے لئے 40 لاکھ روپے، ریلویز ڈویژن کے لئے 23 ارب 25 کروڑ 85 لاکھ روپے، پلاننگ کمیشن کے لئے 4 ارب 14 کروڑ 54 لاکھ روپے، پٹرولیم ڈویژن کے لئے 33 کروڑ 82 لاکھ روپے، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لئے 27 کروڑ 60 لاکھ روپے، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے لئے 26 ارب 69 کروڑ 56 لاکھ روپے، قومی تاریخ ورثہ ڈویژن کے لئے 14 کروڑ 99 لاکھ روپے، ملک میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لئے 3 ارب 38 کروڑ 42 لاکھ روپے، نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کے لئے 72 کروڑ 56 لاکھ روپے، نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن کے لئے 5 کروڑ 92 لاکھ روپے، میری ٹائم افیئرز ڈویژن کے لئے ایک ارب 27 کروڑ 25 لاکھ روپے، لاء اینڈ جسٹس ڈویژن کے لئے 57 کروڑ روپے، داخلہ ڈویژن کے لئے 12 ارب 5 کروڑ 86 لاکھ روپے، بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے لئے 17 کروڑ 37 لاکھ روپے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام ڈویژن کے لئے ایک ارب 67 کروڑ 12 لاکھ روپے، انفارمیشن براڈ کاسٹنگ ڈویژن کے لئے 33 کروڑ، صنعت و پیداوار ڈویژن کے لئے 40 کروڑ 69 لاکھ روپے، انسانی حقوق ڈویژن کے لئے 2 کروڑ 42 لاکھ، ہائوسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لئے 4 ارب 7 کروڑ 20 لاکھ روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لئے 29 ارب 26 کروڑ 86 لاکھ روپے، فنانس ڈویژن کے لئے 4 ارب 99 کروڑ روپے، وفاقی تعلیم و تربیت ڈویژن کے لئے 2 ارب 91 کروڑ 74 لاکھ روپے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لئے 3 کروڑ، اکنامک افیئرز ڈویژن کے لئے 2 کروڑ 29 لاکھ روپے، ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن کے لئے 2 ارب 16 کروڑ روپے، ڈیفنس ڈویژن کے لئے 24 کروڑ 20 لاکھ روپے، کمیونیکیشن ڈویژن کے لئے 10 ارب 14 کروڑ 30 لاکھ، کامرس ڈویژن کے لئے 49 کروڑ، موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے لئے 77 کروڑ 53 لاکھ روپے، کابینہ ڈویژن کے لئے 45 کروڑ 75 لاکھ روپے، سرمایہ کاری بورڈ کے لئے 8 کروڑ 75 لاکھ اور ایوی ایشن ڈویژن کے لئے ایک ارب 57 کروڑ 26 لاکھ روپے کے فنڈز جاری کئے گئے ہیں۔ پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے ان فنڈز کے باعث حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران پورے ملک میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تقویت دی جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جس میں 9 خصوصی اقتصادی زونز شامل ہیں جن میں سے تین اقتصادی زونز رشکئی اقتصادی زون، دھابیجی اقتصادی زون، علامہ اقبال انڈسٹریل زون پر ترقیاتی کام کا آغاز ہو گیا ہے۔ حکومت نے گوادر کی ترقی کی رفتار کو بھی تیز کیا ہے، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، 300 میگاواٹ گوادر کول پاور پلانٹ، گوادر کے مقامی ماہی گیروں کیلئے ترقیاتی منصوبے، ہسپتال، اسکولز، ٹیکنیکل ووکیشنل سینٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا۔








