گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیانات مسترد، بھارت حقیقت مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نے گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھارت کے بے بنیاد بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھوٹے بیانیے اور یک طرفہ پروپیگنڈے کو فروغ دینے میں عالمی سطح پر پیش پیش بھارت کے یہ مضحکہ خیز دعوے ایک مانوس اور سوچی سمجھی کوشش کا حصہ ہیں جس کا مقصد حقیقت اور افسانے کو خلط ملط کرنا ہے۔

اسلام آباد۔5جون (اے پی پی):پاکستان نے گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھارت کے بے بنیاد بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھوٹے بیانیے اور یک طرفہ پروپیگنڈے کو فروغ دینے میں عالمی سطح پر پیش پیش بھارت کے یہ مضحکہ خیز دعوے ایک مانوس اور سوچی سمجھی کوشش کا حصہ ہیں جس کا مقصد حقیقت اور افسانے کو خلط ملط کرنا ہے۔

جمعہ کو ترجمان وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم بھارت کی اس تازہ بیان بازی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جس کی وہ مستحق ہے۔پاکستان اس بات کو دہراتا ہے کہ بھارت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جموں و کشمیر کا تنازع، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے طویل عرصے سے حل طلب مسئلہ ہے، 1947 میں ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے جبری اور غیر قانونی قبضے سے پیدا ہوا۔

اس تنازع کا واحد منصفانہ اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد میں مضمر ہے، جو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بارے میں بھارت کے بے بنیاد دعوے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نافذ ظالمانہ قوانین کے تحت بھارتی افواج کو حاصل مسلسل استثنیٰ اس ریاستی دہشت گردی کا ایک اور پہلو ہے جو بھارت نہتے کشمیریوں کے خلاف روا رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تمام مقبوضہ علاقے خالی کرے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد سے اٹھائے گئے تمام غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات واپس لے، تمام ظالمانہ قوانین منسوخ کرے اور غیر جانبدار مبصرین، بین الاقوامی انسانی حقوق و امدادی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کو زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کی اجازت دے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ کشمیری عوام اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کا استعمال کر سکیں۔