گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل، بنیادی ڈھانچے، مواصلات، توانائی، تعلیم، صحت، سیاحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے،وزیر اعظم محمد شہباز شریف

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،علاقے میں بنیادی ڈھانچے، مواصلات، توانائی، تعلیم، صحت، سیاحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے

اسلام آباد۔10جولائی (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،علاقے میں بنیادی ڈھانچے، مواصلات، توانائی، تعلیم، صحت، سیاحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وہاں کے قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات اور معدنی ذخائر کو بروئے کار لا کر مقامی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا،گلگت بلتستان کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچائیں گے۔جمعے کو پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے وزیراعظم سے یہاں ملاقات کی۔ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ،وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناءاللہ بھی موجود تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ہمیشہ پاکستان سے اپنی محبت، وفاداری اور قومی یکجہتی کا عملی ثبوت دیا ،آپ عوام کے منتخب نمائندے ہیں، آپ کے ذریعے عوام کی توقعات، مسائل اور ترجیحات سے براہِ راست آگاہی حاصل ہوتی ہے،ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ہمارا مقصد صرف اور صرف عوام کی خدمت اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،علاقے میں بنیادی ڈھانچے، مواصلات، توانائی، تعلیم، صحت، سیاحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، علاقے کے قدرتی وسائل، سیاحتی مقامات اور معدنی ذخائر کو بروئے کار لا کر مقامی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا،نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید فنی تربیت اور باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیح ہے تاکہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں چار دانش سکول تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں اور آئندہ سال سے ان میں کلاسز شروع ہو جائیں گی ،اس کے علاوہ شمسی توانائی سے 100 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے،گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی اور گلاف کے حوالے سے پیشگی اطلاع کا نظام بھی نصب کیا گیا ہے تاکہ مقامی لوگوں کو بروقت اطلاع فراہم کی جاسکے اور موسمی حالات کی صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل، بہتر طرزِ حکمرانی اور شفافیت کے فروغ کے لیے وفاقی اور مقامی قیادت کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تجاویز اور سفارشات ہمارے لیے اہم ہیں،گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہم مل کر کام کریں گے،تمام ممبران اسمبلی میں تعمیری کردار ادا کریں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے گلگت بلتستان کو ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت کی جو ان ارکان اسمبلی کی جانب سے دی گئی قابل عمل تجاویز کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناءاللہ شامل ہیں۔