گلگت بلتستان کے آئینی معاملات پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے، اعظم نذیر تارڑ

گلگت بلتستان کے آئینی معاملات پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد۔11ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئینی و قانونی معاملات پر مشاورت کا عمل جاری ہے، ان امور پر جامع اور تفصیلی غور کیا جائے گا جبکہ تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا جائے گا، گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق اور احساس مساوات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ترجمان کے مطابق وفاقی وزیر قانون کی زیرصدارت جمعہ کو جی بی ایشوز ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا ،جس میں گلگت بلتستان، وزارت دفاع، وزارت خارجہ، وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان اور گلگت بلتستان کونسل کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں گلگت بلتستان کے آئینی، قانونی، مالی اور انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اس دوران گلگت بلتستان کے آئینی و قانونی معاملات سے متعلق مختلف آپشنز اور سابقہ رپورٹس کا جائزہ لیا گیا جبکہ مالیاتی وسائل کے لیے مختلف تجاویز اور ماڈلز پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں گلگت بلتستان کے موجودہ حکمرانی کے نظام میں عملی اصلاحات کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مالی، انتظامی اور آئینی معاملات کو مربوط انداز میں دیکھا جائے گا اور مسائل کے حل کے لیے عملی اور قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں۔ انہوں نے ورکنگ گروپ کو جامع غور و خوض کے بعد عبوری رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے آئینی معاملات پر متفقہ آئینی و قانونی حل کے لیے مزید وقت درکار ہوگا اور اس سلسلے میں وسیع مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مستقبل کے انتظامی و آئینی انتظام پر تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔وفاقی وزیر قانون نے اگلے اجلاس میں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کو بھی مدعو کرلیا تاکہ ان کا مؤقف بھی لیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے آئینی معاملات پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے اور فیصلوں میں وہاں کے عوام کے حقوق اور احساس مساوات کو مقدم رکھا جائے گا۔

مزید خبریں