فیصل آباد ۔ 25 نومبر (اے پی پی):ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کی جانب سے کاشتکاروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کاشتکار گندم کی فصل میں بوائی کے وقت تجزیہ اراضی کی روشنی میں فاسفورسی،پوٹاش اور نائٹروجنی کھادوں کے متوازن و متناسب استعمال سے گندم کی فصل میں اضافہ اورگندم کے پیداواری اخراجات میں کمی لاسکتے ہیں۔ انہوں نے گندم کے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ بوائی …
گندم کے کاشتکاروں کو بوائی کے وقت کمز ور زمینوں میں 2بوری ڈی اے پی یا5 بوری سنگل سپر فاسفیٹ ڈالنے کی سفارش

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 25 نومبر (اے پی پی):ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کی جانب سے کاشتکاروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کاشتکار گندم کی فصل میں بوائی کے وقت تجزیہ اراضی کی روشنی میں فاسفورسی،پوٹاش اور نائٹروجنی کھادوں کے متوازن و متناسب استعمال سے گندم کی فصل میں اضافہ اورگندم کے پیداواری اخراجات میں کمی لاسکتے ہیں۔
انہوں نے گندم کے کاشتکاروں کو ہدایت کی کہ وہ بوائی کے وقت کمز ور زمینوں میں 2 بوری ڈی اے پی یا5 بوری سنگل سپر فاسفیٹ جب کہ اوسط زرخیز زمینوں میں ڈیڑھ بوری ڈی اے پی یا4 بوری سنگل سپر فاسفیٹ اور زرخیز زمینوں میں ایک بوری ڈی اے پی یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔انہوں نے کہاکہ فاسفورس گندم کے لیے ایک اہم غذائی عنصر ہے جو جڑوں کو لمبا کرنے، تنے کو مضبوط،دانے کو موٹا اور متعدد بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ گندم کے لیے نائٹروجن اور فاسفورس کے استعمال کی نسبت 1:1.5یعنی 2بوری ڈی اے پی اور2 بوری یوریا کااستعمال نہایت ضروری ہے کیونکہ فاسفورس کم استعما ل کرنے کی وجہ سے پودا نرم اور زیادہ سبز ہوجاتاہے جس کی وجہ سے فصل کے گرنے اور اس پر بیماریوں کے حملے کا خطرہ بڑھ جاتاہے نیز فصل کے پکنے میں تاخیر ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر نائٹروجن اور فاسفورس کا تناسب صحیح رکھا جائے تو پیداوار میں 5سے10من فی ایکڑ اضافہ ممکن ہے نیز نائٹروجن کھاد سفارش کردہ نسبت سے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گندم کی بھرپور پیداوار کے حصول کے لیے ایک بوری سلفیٹ آف پوٹاش بھی استعمال کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ تجربات کی روشنی میں یہ بات اخذ کی گئی ہے کہ گندم کی بروقت بوائی اور پوٹاش والی کھاد کی 25کلوگرام فی ایکڑ مقدار استعمال کرنے سے گندم پر تیلے کا حملہ نہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ گندم کی پہلی آبپاشی کے وقت اگر گندم کی فصل میں نائٹروجنی کھاد استعمال نہ کی جائے تو اس سے فی ایکڑ پیداوارمتاثر ہونے کا احتمال بڑھ جاتاہے جبکہ گندم کی فصل کو پہلے پانی کے ساتھ نائٹروجنی کھاد کے استعمال کی اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب پودا جھاڑ بناتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ فصل کی یہ حالت بروقت کاشت کی گئی فصل میں کاشت سے 18 سے 25 دن بعد شروع ہوتی ہے۔علاوہ ازیں دھان کے وڈھ میں کاشتہ گندم کی فصل کی پہلی آبپاشی 35سے40دن بعدکرنے اورآبپاشی کے بعدوترحالت میں نائٹروجنی کھاد کے استعمال کے خاطر خواہ نتائج بھی ملتے ہیں۔انہوں نے کاشتکاروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ کھڑی کپاس میں کاشتہ گندم کی فصل میں بوائی کے ایک مہینہ بعد ایک بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں تاکہ شاندار فصل کاحصول یقینی ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ذرائع آبپاشی استعمال کرنیوالے کاشتکاروں کی پیداوار روائتی ذرائع پر انحصار کرنے والے کاشتکاروں کے مقابلے میں دو گنا ہو گئی ہے اور وہ عام کاشتکاروں کی نسبت 25 سے30من فی ایکڑ گندم کی بجائے 50 سے60من فی ایکڑ تک گندم سمیت دیگر زرعی اجناس کی پیداوار حاصل کررہے ہیں لہٰذا کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ بھی روائتی ذرائع پر انحصارکی بجائے جدید ذرائع آبپاشی سے استفادہ کریں تاکہ ان کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پنجاب میں بالخصوص جبکہ ملک بھر میں بالعموم گندم کا زیرکاشت 90فیصد رقبہ آبپاش ہے مگر پھر بھی نظام آبپاشی کے درست استعمال نہ ہونے، پانی کے ضیاع اور ٹیل تک پانی کی کم مقدار پہنچنے سے فصلات کو ضرورت کے مطابق پانی نہ ملتاہے جس سے فصل کم ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ چونکہ پانی کی کمی کامسئلہ آہستہ آہستہ بڑھتا جارہاہے لہٰذا کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ ماہرین اصلاح آبپاشی اور زرعی سائنسدانوں کی ہدایات کے مطابق جدید ذرائع آبپاشی سے استفادہ کریں تاکہ پانی کی کمی سے نمٹنے اور اچھی پیداوارحاصل کرنے میں مدد مل سکے۔








