گوادر کی بندرگاہ کے حوالہ سے پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی انٹرنیشنل (پی ایس اے آئی) سے 2007ءمیں معاہدہ کے حوالہ سے خبریں بے بنیاد ہیں

گوادر کی بندرگاہ کے حوالہ سے پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی انٹرنیشنل (پی ایس اے آئی) سے 2007ءمیں معاہدہ کے حوالہ سے خبریں بے بنیاد ہیں، پی ایس اے آئی معاہدہ کے تحت 2013ءتک ترقیاتی کام کرانے میں ناکام رہی تھی، وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسلام آباد ۔ 29 نومبر (اے پی پی) وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے گوادر کی بندرگاہ کے حوالہ سے پورٹ آف سنگاپور …

گوادر کی بندرگاہ کے حوالہ سے پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی انٹرنیشنل (پی ایس اے آئی) سے 2007ءمیں معاہدہ کے حوالہ سے خبریں بے بنیاد ہیں، پی ایس اے آئی معاہدہ کے تحت 2013ءتک ترقیاتی کام کرانے میں ناکام رہی تھی، وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات

اسلام آباد ۔ 29 نومبر (اے پی پی) وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے گوادر کی بندرگاہ کے حوالہ سے پورٹ آف سنگاپور اتھارٹی انٹرنیشنل (پی ایس اے آئی) سے 2007ءمیں معاہدہ کے حوالہ سے بے بنیاد اور جھوٹی خبروں کی اشاعت کی پرزور تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایس اے آئی معاہدہ کے تحت 2013ءتک ترقیاتی کام کرانے میں ناکام رہی تھی۔ پلاننگ کمیشن کے حکام کے مطابق گوادر کی بندرگاہ کا انتظام چلانے والی موجودہ کمپنی چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ (سی او پی ایچ سی) نے 2013ءمیں حکام سے کاروباری معاملات طے کئے اور معاہدہ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شرائط و ضوابط کو سی پیک کی روشنی میں طے کیا گیا اور معاہدہ کے تحت بندرگاہ آپریٹر ٹرمینلز کی تعمیر، مشینری اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا ذمہ دار ہو گا۔ مزید برآں گوادر میں فری اکنامک زون 23 سو ایکڑ رقبہ پر تعمیر کیا جا رہا ہے جو کمپنی تعمیر کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا منصوبہ بی او ٹی پر کمپنی تعمیر کرے گی اور اس پر کمپنی 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔حکام نے کہا کہ کمپنی 2048ءتک بندرگاہ کا انتظام چلائے گی جس کے بعد تمام تر سہولیات گوادر پورٹ اتھارٹی کو منتقل ہو جائیں گی جبکہ اس دوران بندرگاہ کی مجموعی آمدنی سے جی پی اے کو 9 فیصد جبکہ دیگر منسلک کاروبار کی آمدنی سے 15 فیصد ملتا رہے گا۔

Leave a Reply