گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پیر کے روز ڈاکٹر آصف خان کی قیادت میں ضم اضلاع کے ڈاکٹرز کی نمائندہ کمیٹی کے وفد نے ملاقات کی۔گورنر ہاؤس پشاور تر جمان کے مطابق ملاقات میں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے میڈیکل طلبہ کو درپیش مالی مشکلات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا سے ڈاکٹرز کمیٹی کی ملاقات، ضم اضلاع کے میڈیکل طلبہ کی اسکالرشپ بڑھانے کا مطالبہ
پشاور۔ 24 اگست (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پیر کے روز ڈاکٹر آصف خان کی قیادت میں ضم اضلاع کے ڈاکٹرز کی نمائندہ کمیٹی کے وفد نے ملاقات کی۔گورنر ہاؤس پشاور تر جمان کے مطابق ملاقات میں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے میڈیکل طلبہ کو درپیش مالی مشکلات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے گورنر کو بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے 2006ء سے قبائلی علاقوں کے میڈیکل طلبہ کے لیے سالانہ 12 ہزار روپے اسکالرشپ دی جا رہی ہے۔
اسکالرشپ کے آغاز کے وقت یہ رقم سالانہ ٹیوشن فیس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی تھی تاہم گزشتہ 20 سال کے دوران تعلیمی اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔وفد کے مطابق 2026ء میں خیبرپختونخوا کے میڈیکل کالجز کی سالانہ ٹیوشن فیس تقریباً ایک لاکھ سے ایک لاکھ 10 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ قبائلی اضلاع کے طلبہ کے لیے اسکالرشپ تاحال صرف 12 ہزار روپے سالانہ ہے، جس کے باعث طلبہ اور ان کے خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ وفد نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کے میڈیکل طلبہ کے سالانہ اسکالرشپ میں اضافہ کیا جائے اور مستقبل میں اسکالرشپ کی رقم میں نظرثانی کے لیے اسے مہنگائی اور افراطِ زر سے منسلک کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار بھی وضع کیا جائے۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اس حوالہ سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی اپنے ساتھی اراکین کے ہمراہ آواز بلند کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے باسیوں کے مسائل کا حل گورنر ہاؤس کی ترجیحات میں شامل ہے ،نوجوان ڈاکٹرز اور طلبہ کے جائز مسائل کے حل میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔







