گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا مایہ ناز پروفیسر اور نامور سکالر پروفیسر حسن عباس کے اعزاز میں عشائیہ

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نےامریکہ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی کے مایہ ناز پروفیسر اور نامور سکالر پروفیسر حسن عباس کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

اسلام آباد۔14جولائی (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نےامریکہ کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی واشنگٹن ڈی سی کے مایہ ناز پروفیسر اور نامور سکالر پروفیسر حسن عباس کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی، واشنگٹن سے امتیاز علی اورییل یونیورسٹی کی نوجوان سکالر الینا امتیاز، نیشنل ڈائیلاگ فورم کے سربراہ شہریار خان انٹرنیشنل ریسرچ کونسل کے سربراہ محمد اسرار مدنی پروگرام مینیجر بشری علی ، ڈاکٹر اشرف علی اور ہمایون خان ، معروف صحافی علی فرقان، یوسف خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے عشائیہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور خیبر پختونخوا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام ریاستی ادارے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔ گورنر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امریکااور مغربی ممالک افغانستان کی سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گےاور افغان طالبان کو دوحہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے پر مجبور کریں گے۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خیبر پختونخوا کی امن و امان کی صورتحال،دہشت گردی کے خلاف اقدامات، علاقائی سلامتی، گورننس اور پاکستان و امریکہ کے تعلقات کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پروفیسر حسن عباس نےخطے کی سکیورٹی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی اور پالیسی امور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امن و استحکام کے لیے مربوط اور ادارہ جاتی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکی تعلیمی ثقافتی سماجی اور عالمی تھنک ٹینک جیسی تنظیموں سے روابط اور شراکت داری بڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو آئندہ سال منعقد ہونے والی ہارورڈ یونیورسٹی پاکستان کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔انہوں نے گورنرفیصل کریم کنڈی کو اپنی نئی تصانیف "وارثِ رسول” اور دی ریٹرن آف دی طالبان بھی پیش کیں جو بین الاقوامی اشاعتی اداروں سے شائع ہوئی ہیں۔