گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد پشاور میں زندگی معمول پر آنے لگی، اہم شاہراہیں کھل گئیں

گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد پشاور میں زندگی معمول پر آنے لگی، اہم شاہراہیں کھل گئیں

پشاور۔ 13 اکتوبر (اے پی پی):پشاور میں آمدورفت کے لیے راستے کھول دیئے گئے، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر معمول کے مطابق کھل گئے جبکہ بی آر ٹی سروس بھی بحال ہوگئی ہے تاہم شہر کے حساس ریڈ زون سمیت بعض اہم شاہراہیں بدستور بند ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات میں نرمی کے بعد پشاور میں معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

اہم شاہراہوں پر رکھے گئے کنٹینرز کو مکمل طور پر ہٹانے کے بجائے سڑکوں کے ایک جانب منتقل کیا گیا ہے تاکہ گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہ سکے۔صوبائی حکومت کی جانب سے ایک روزہ عام تعطیل کا نوٹیفکیشن واپس لیے جانے کے بعد تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی دفتری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے بھی کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں نئے تعینات ہونے والے افسران نے اپنے عہدوں کا چارج سنبھال لیا ہے۔ پشاور کے نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر نے چارج سنبھالنے کے بعد تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد پیر کو بند رہنے والے تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں۔

پشاور پولیس کے مطابق جی ٹی روڈ پر پیر زکوڑی پل کے مقام پر رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں جبکہ فیصل کالونی کے قریب کنٹینرز سڑک کے کنارے منتقل کرکے آمدورفت کے لیے راستہ کھول دیا گیا ہے جس کے بعد شہر تک رسائی بحال ہوگئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق یونیورسٹی روڈ بھی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔ اسی طرح کوہاٹ روڈ، چارسدہ روڈ اور دیگر رابطہ سڑکوں پر بھی آمدورفت بحال کردی گئی ہے شہر کی اہم شاہراہ خیبر روڈ کو بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ شامی روڈ اور سول کوارٹرز کے قریب بھی رکاوٹیں سڑکوں کے کنارے منتقل کی گئی ہیں۔

دوسری جانب بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس بھی صبح سے مکمل طور پر بحال ہے۔ بی آر ٹی کے مرکزی اور فیڈر روٹس پر شہریوں کو معمول کے مطابق سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جس سے عوام کو آمدورفت میں سہولت ملی ہے۔ پشاور پولیس حکام کے مطابق حکومتی احکامات کے تحت شہر کے داخلی راستوں اور اہم مقامات پر حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے تاہم حالات میں بہتری کے بعد ان اقدامات میں کافی حد تک نرمی کردی گئی ہے۔