کراچی۔ 23 جنوری (اے پی پی):گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے فائرفائٹر شہید فرقان علی کی رہائشگاہ پر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔جمعہ کو گورنر ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق گورنر سندھ نے شہید کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ قوم …
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی فائرفائٹر شہید فرقان علی کے اہلِ خانہ سے اظہارتعزیت

مزید خبریں
کراچی۔ 23 جنوری (اے پی پی):گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے فائرفائٹر شہید فرقان علی کی رہائشگاہ پر جا کر اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔جمعہ کو گورنر ہائوس سے جاری اعلامیہ کے مطابق گورنر سندھ نے شہید کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ قوم شہید فرقان علی کی عظیم قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے دوران شہید فرقان علی نے اپنی جان قربان کر کے کئی قیمتی زندگیاں بچائیں، ایسی شہادتیں ہماری تاریخ کا اثاثہ ہیں۔
گورنر سندھ نے اعلان کیا کہ فائرفائٹر شہید فرقان علی کو سول ایوارڈ (ستارہ امتیاز) دینے کے لیے صدرِ پاکستان اور وفاقی کابینہ کو باضابطہ سفارش کی جائے گی۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ شہید فرقان علی کی بیوہ کو اسمارٹ سٹی میں رہائشی پلاٹ دیا جائے گا جس کی تعمیرات بلڈر کے ذریعے مکمل کروائی جائیں گی جبکہ شہید کے بچوں کو رہائش کے لیے گھر بھی فراہم کیا گیا ہے۔گورنر سندھ نے یہ بھی اعلان کیا کہ شہید فرقان علی کی یاد میں ان کے گھر کے سامنے واقع شارع اور فائر اسٹیشن کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
سانحہ گل پلازہ پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے شفاف جوڈیشل انکوائری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ لواحقین تاحال ڈی این اے رپورٹس کے منتظر ہیں جبکہ اس سانحے کے باعث ہزاروں خاندان روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بلیم گیم بند ہونی چاہیے اور کوتاہی کے مرتکب افراد کو سخت سزا ملنی چاہیے۔گورنر سندھ نے کہا کہ ہر ادارے کو اپنا آڈٹ اور احتساب خود کرنا ہوگا، یہ معاملہ سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں تمام قومیتوں کے لوگ بستے ہیں اور کاروبار کے لیے آتے ہیں، ہمیں ایسی حکمتِ عملی تیار کرنی ہوگی تاکہ آئندہ اس نوعیت کے افسوسناک واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔








