مذہبی تعلیمی بورڈز، مدارس نے یومِ تشکر منایا، مدارس کے مسائل کے حل کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہا

مذہبی تعلیمی بورڈز، مدارس نے یومِ تشکر منایا، مدارس کے مسائل کے حل کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہا

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):پاکستان علماء کونسل اور اس کی اتحادی مذہبی جماعتوں، متحدہ مدارس کونسل، متحدہ جمعیت اہل حدیث، مختلف مدارس کے بورڈز اور ملک بھر کی دیگر مذہبی تنظیموں نے یومِ تشکر مناتے ہوئے دینی مدارس کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل، بینک اکاؤنٹس کی سہولت اور مدارس کے انتظامی و مالیاتی نظام میں بہتری کے لیے حکومتی اقدامات کو سراہا ہے ۔

یومِ تشکر کی سرگرمیوں میں نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی عبد الرحیم، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ عارف واحدی، ڈاکٹر آصف میر، مفتی محمد کریم خان، علامہ توقیر عباس، علامہ محمد حسین اکبر، مولانا زاہد منصور، مولانا زبیر فہیم، مولانا یوسف کشمیری، مولانا ابوبکر صابری، طاہر عقیل، مولانا نعمان حاشر، اشفاق پٹافی، اسلم صدیقی، مولانا طیب قریشی، مفتی نعمان نعیم، مولانا سمیع اللہ بلوچ، مفتی عمر فاروق اور مولانا ذوالفقار احمد سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔شرکاء نے کہا کہ حکومت، مذہبی قیادت اور مدارس کے بورڈز کی مشترکہ کوششیں پاکستان میں دینی تعلیم کے مستقبل کے لیے ایک مثبت اور تعمیری بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دینی مدارس ملک کے تعلیمی اور سماجی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں اور طلبہ کو مستند دینی تعلیم، اچھے کردار اور عصرِ حاضر کے چیلنجز کی متوازن سمجھ فراہم کرکے انتہا پسندی، دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف ایک مضبوط دیوار کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔مذہبی رہنماؤں نے زور دیا کہ مدارس کا مقصد صرف دینی تعلیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ جدید اور دنیاوی علوم، پیشہ ورانہ مہارتوں اور عصری تعلیم کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے، تاکہ مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کا مقابلہ کر سکیں۔

انہوں نے مدارس کے طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعلیمی کامیابیوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں مختلف تعلیمی بورڈز کے زیر اہتمام ہونے والے امتحانات میں دینی مدارس کے طلبہ کا نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ روایتی دینی علوم کو جدید تعلیم کے ساتھ مربوط کرکے طلبہ کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکتا ہے۔مذہبی قیادت نے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 33 ہزار مدارس میں سے 22 ہزار مدارس اب تک ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ باقی مدارس کی رجسٹریشن بھی دستیاب دو قانونی و ادارہ جاتی طریقہ کار، یعنی ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم کے نظام اور متعلقہ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اور منظم رجسٹریشن کا نظام دینی مدارس کی تعلیمی، انتظامی اور ادارہ جاتی استعداد کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

مذہبی قیادت نے مدارس کے مالی معاملات میں شفافیت کو بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے جواب دہی، مناسب دستاویزات اور شفاف مالیاتی انتظام کے مؤثر نظام کی حمایت کی، تاکہ رجسٹرڈ مدارس کو جائز بینکنگ سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کے مالی معاملات کو بھی باقاعدہ اور شفاف بنایا جا سکے۔ علماء و مذہبی رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے دینی مدارس ملک میں امن، قومی اتحاد، رواداری اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نئی نسل کے علماء کو روایتی اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ عصری، سائنسی اور پیشہ ورانہ تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یومِ تشکر حکومت اور مذہبی قیادت کے باہمی تعاون سے ہونے والی پیش رفت کا اجتماعی اعتراف ہے اور امید ظاہر کی کہ مدارس کو درپیش باقی ماندہ مسائل بھی باہمی مشاورت، مذاکرات اور اتفاقِ رائے کے ذریعے حل کر لیے جائیں گے۔

مذہبی قیادت نے پاکستان کے تعلیمی اور دینی اداروں کو مزید مضبوط بنانے، شفافیت اور جواب دہی کو فروغ دینے، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنے اور ایسی نئی نسل کی تیاری کے عزم کا اعادہ کیا جو اسلامی اقدار کو جدید علم، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرکے پاکستان کے پُرامن، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔