گورنر فیصل کریم کنڈی کا پشاور ناردرن بائی پاس منصوبے کا دورہ

گورنر خیبرپختونخوا کا پشاور ناردرن بائی پاس منصوبے کا دورہ، این ایچ اے حکام نے بریفنگ دی

پشاور۔ 23 جون (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے منگل کے روز پشاور ناردرن بائی پاس منصوبے کا دورہ کیا۔گورنر ہائوس پشاور کے تر جمان کے مطابق ممبر این ایچ اے خیبرپختونخوا اشفاق احمد نے گورنر کو منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی ۔

بریفنگ کے مطابق پشاور نادرن بائی پاس منصوبہ تقریباً 30 کلومیٹر طویل، پانچ پیکیجز پر مشتمل ہے،منصوبہ ضلع پشاور اور ضلع خیبر سے گزرے گاجبکہ پلوں اور انڈر پاسز کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری ہے۔این ایچ اے حکام کا کہنا ہے کہ کوشش ہے کہ منصوبہ اکتوبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے،سیکیورٹی مسائل درپیش ہیں تاہم تعمیراتی کام جاری رہے گا۔ این ایچ اے حکام نے بریفنگ میں بتا یا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے شب و روز کام کیا جائے گا، متبادل فنڈنگ کے حصول کیلئے این ایچ اے کی کوششیں جاری ہیں،منصوبے کی تکمیل کیلئے مزید 8.4 ارب روپے درکار ہیں اورفوری طور پر 4 ارب روپے کی فراہمی ناگزیر ہے۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تعمیراتی معیار ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فلائی اوورز اور ری اِنفورسڈ ارتھ والز کی تعمیر سے شہر کی خوبصورتی برقرار رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ مکمل شدہ حصوں کو فوری طور پر ٹریفک کیلئے کھولا جائےتاکہ جولائی میں منصوبے کے ایک مرحلے کی افتتاحی تقریب منعقد کی جائے۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے وفاقی وزیر اور چیئرمین این ایچ اے سے رابطہ کیا جائے گا۔گورنر کی جانب سے سیکیورٹی امور میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کے اطراف شجرکاری کی جائے، مستقبل میں ٹریفک دباؤ مزید بڑھے گا۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پشاور ناردرن بائی پاس صوبے میں آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کافی عرصہ سے یہ منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے اور پانچ فیز میں مکمل ہو رہا ہے اسکی جلد تکمیل بہت ضروری ہے،امید ہے کہ رواں سال کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پیکج کا ہم جولائی میں افتتاح کرنے کی کوشش کررہے ہیں ،یہ منصوبہ خطہ اور پشاور کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ زمین کے حصول کے مسائل تھے ، عدالتوں میں کیسز تھے جسکی وجہ سے منصوبہ زیر التوا تھا۔

مزید خبریں