فیصل آباد 17 دسمبر (اے پی پی)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہاہے کہ بانی پاکستان کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وطن عزیز میں اقلیتوں کو مساوی حقوق فراہم کیے جارہے ہیں اور کرتار پور راہداری کھولنے کا اقدام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، تاہم اس کے برعکس بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جو خود کو گجرات کا قصائی ثابت کرنے …
گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے 24 ویں کانووکیشن سے خطاب

مزید خبریں
فیصل آباد 17 دسمبر (اے پی پی)گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہاہے کہ بانی پاکستان کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وطن عزیز میں اقلیتوں کو مساوی حقوق فراہم کیے جارہے ہیں اور کرتار پور راہداری کھولنے کا اقدام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، تاہم اس کے برعکس بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جو خود کو گجرات کا قصائی ثابت کرنے میں مگن ہے، نے کشمیریوں کے حقوق پامال اور مسلمانوں کے قتل عام کی اجازت دے کرفاشسٹ ہونے کاثبوت دیا ہے جس سے بھارت کا زوال شروع ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف فاشسٹ پالیسیوں کے باعث مودی سرکار کو دنیا بھر میں خفت اٹھانا اور شرمندگی برداشت کرنا پڑ رہی ہے وہیں ہماری لبرل پالیسی کے باعث عالمی سطح پر ہمیں پذیرائی ملنے سمیت عزت افزائی کا بھی سامنا ہے۔ حکومت اقلیتوں کو ان کے جائز قانونی ، انسانی ، اخلاقی ، آئینی حقوق دینے کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسی تناظر میں تمام ےونیورسٹیز میں اقلیتوں کا5 فیصد کوٹہ مختص کر دیا گیا ہے،تمام ےونیورسٹیوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ،انہیں کلین اینڈ گرین بنانا ، ان کے کیمپسز و ہوسٹلز کی سولر سسٹم پر منتقلی اور ملک کو درپیش پانی کی کمی کے حوالے سے منصوبے بنانا اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے،وائس چانسلر ز کےلئے بھی نیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت وہ آئندہ میرٹ سے ہٹ کر کوئی تقرری نہیں کر سکیں گے ،طالبات کی طرح طلباءکو بھی میڈلز و پوزیشنز ہولڈر بننے کےلئے مزید محنت کرنا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کی دوپہر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ڈی گراﺅنڈ میں منعقدہ 24 ویں کانووکیشن سے خطاب کے دوران کیا۔گورنر نے کہاکہ حکومت اقلیتوں کےلئے نہ صرف کوٹہ مختص کرنے کے اعلانات کر رہی ہے بلکہ ان احکامات پر سختی سے عملدر آمد بھی کروایا جا رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کی روشنی میں پنجاب کی تمام ےونیورسٹیز کےلئے جو 4 بنیادی اصول وضع کیے گئے ہیں ان پر بھی عمل کروایا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ ےونیورسٹیوں میں سیاسی اثر و رسوخ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میرٹ پر وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے لہٰذا امید ہے کہ میرٹ پر 100فیصد اہلیت ، تعلیم ، تجربے اور انتظامی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آنے والے چانسلرز خود بھی تمام امور میں میرٹ کی عملداری ےقینی بنائیں گے جس سے امید واثق ہے کہ آنے والے چند سالوں میں پاکستان کی بہت سی ےونیورسٹیز دنیا کی 5 سو بہترین ےونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گی۔ چوہدری محمد سرور نے کہاکہ انہوں نے یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی ہے کہ جب بھی ان کے پاس یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں تقرریوں کےلئے موزوں افراد کی سمریاں ارسال کی جائیں تو ان میں میرٹ کو ہر لحاظ سے مد نظر رکھا جائے کیونکہ سابقہ ادوار میں یونیورسٹیز میں میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئیں جس سے جہاں انتظامی مسائل پید اہوئے وہیں ان کی تعلیمی ، تحقیقی اور تدریسی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں لیکن اب ایسا نہیں چلے گا ۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ انہوںنے تقرریوں کے ضمن میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے 60 نمبر ز کے صوابدیدی اختیارات کو کم کرتے ہوئے انٹرویو میں ان کے صرف 20 نمبر کے اختیار کی ہدایت کی ہے تاکہ وائس چانسلرز اپنے 60 نمبروں کے اختیار کے باعث منظور نظر ا فراد کو نوازنے سے اجتناب سمیت اہل و مستحق اور میرٹ پر آنے والے امیدواروں کو مسترد نہ کر سکیں۔انہوں نے کہاکہ آج کے کانووکیشن میں ڈگریاں و میڈلز حاصل کرنے والے فارغ التحصیل گریجویٹس مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ اب وہ اپنی تعلیم و تحقیق مکمل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں ، ےہ نوجوان جو ملک کا روشن مستقبل اور قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں اس لیے امید ہے کہ یہ ایماندارانہ اور دیانتدارانہ طریقے سے حب الوطنی اور فرض شناسی کے ساتھ اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کا رلاتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں نہ صرف بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے بلکہ پاکستان کو بابائے قوم کے فرمودات کے مطابق کرپشن فری بنانے کےلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے کیونکہ کسی بھی جگہ پر کرپٹ معاشرہ ےا برائیوں سے لبریز نظام حکمرانی سے ترقی نہیں کی جا سکتی۔ گورنر نے کہاکہ جب موجودہ حکومت نے عنان اقتدار سنبھالا تو ملک مختلف بحرانوں کا شکار تھا جس میں معاشی بدحالی سب سے اہم عنصر کے طور پر سامنے آئی لیکن حکومت کی کوششوں سے اب بتدریج بحرانوں کا خاتمہ ہو رہا ہے اور قوم بہت جلد وطن عزیز کو نئے پاکستان کے طور پر دیکھ پائے گی۔انہوںنے کہاکہ نوجوان نسل ہمارے ملک و قوم کا اثاثہ ہے جس نے پاکستان کو ہر قسم کی برائیوں سے پاک کر کے دنیا کے ترقی ےافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کرنا ہے۔چوہدری محمد سرور نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر دارومدار زراعت اور صنعت و حرفت پرہے اس لیے حکومت زراعت میں جدید ٹیکنالوجیز متعارف کروا رہی ہے کیونکہ زراعت کے توسط سے ہم جہاں ملک کی غذائی اجناس کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں وہیں اضافی زرعی اجناس اور ان سے تیار کردہ مصنوعات برآمد کر کے قیمتی زر مبادلے کے حصول کے ذریعے ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر بھی گامزن کیا جا سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے سائنسدانوں کو زمینداروں کےلئے کسان دوست ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر توجہ دینا ہو گی تاکہ ہم مستقبل میں ترقی ےافتہ ممالک میں شامل ہو سکیں۔گورنر نے کہاکہ وہ جب بھی کسی یونیورسٹی کے کانووکیشن کی تقریب میں شرکت کےلئے جاتے ہیں تو وہاں مشاہدے میں آتا ہے کہ ہماری بچیاں ہمارے نوجوانوں کی نسبت نہ صرف زیادہ پوزیشنیں بلکہ شاندار تعلیمی و تحقیقی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈلز بھی حاصل کرتی ہیں جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہماری بچیاں طلباءکی نسبت زیادہ محنت کر تی ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج بھی جب وہ زرعی یونیورسٹی کے کانووکیشن کی تقریب میں شرکت کےلئے گھر سے نکلے تو ان کا خیال تھا کہ آج زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے طلباءزیادہ بہتر کارکردگی دکھائیں گے لیکن جب میڈلز اور ڈگریاں تقسیم کرنے کا وقت آیا تو علم ہو اکہ یہاں بھی طالبات نے طلباءکو پچھاڑ دیا ہے اور طلباءسے زیادہ میڈلز بھی حاصل کیے ہیں تاہم اس کا ےہ مطلب نہیں کہ طلباءمحنت کرنا چھوڑ دیں بلکہ انہیں پہلے سے بھی بڑھ کر محنت کرنی چاہیے تاکہ وہ طالبات سے بازی لے جا سکیں۔انہوںنے کہاکہ جس طرح زندگی کے دیگر شعبہ جات میں مقابلہ بازی کا رجحان ہوتا ہے اسی طرح تعلیمی میدان میں بھی طلباءاور طالبات کے درمیان ایک دوسرے سے بڑھ کر پوزیشن حاصل کرنے کی جستجو ہونی چاہیے تاکہ نہ صرف ان میں محنت کی لگن پیدا ہو بلکہ وہ اس کا پھل بھی حاصل کر سکیں۔اس موقع پر گورنر پنجاب نے جن 6827 طلباءو طالبات میں ڈگریاں تقسیم کیں ان میں پی ایچ ڈی کے 154سکالر ، ایم فل کے 1473، ایم ایس کے 3431،ایم اے ، ایم ایس سی ، ایم بی اے ، ایم کام ، ایم ایڈ اور بی ایس سی کے 1559 فارغ التحصیل گریجوایٹس شامل تھے۔ مزید برآں ڈی گراﺅنڈ جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں منعقدہ مذکورہ پر وقار تقریب میں گورنر پنجاب و چانسلر چوہدری محمد سرور نے شاندار تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹاپ پوزیشنز حاصل کرنے والے 11طلباءو طالبات میں گولڈ میڈلز ، 40 طلباءو طالبات میں سلور میڈلز اور 7 طلباءو طالبات میں کانسی کے تمغے تقسیم کیے۔اس موقع پر ےونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد اشرف (ہلال امتیاز) نے خطبہ استقبالیہ میں بتایاکہ مذکورہ طلباءو طالبات جو سال 2016ءمیں پی ایچ ڈی اور مختلف ڈگری پروگرامز مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ان میں ڈگریاں اور میڈلز تقسیم کیے گئے ہیں۔اس موقع پر وائس چانسلر نے مہمان خصوصی گورنر پنجاب کو ےونیورسٹی کی تعلیمی ، تدریسی ، تحقیقی سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔کانووکیشن کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے مہمانان خصوصی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور صوبائی وزیر لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ سردار حسنین بہادر دریشک کو سووینئر پیش کیے جبکہ گورنر پنجاب نے وائس چانسلر کی شاندار خدمات پر انہیں شیلڈ سے بھی نوازا۔اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی فیض اللہ کموکا ،ممبران صوبائی اسمبلی چوہدری لطیف نذر ،میاں خیال احمد کاسترو اور کئی دیگر اعلیٰ انتظامی حکام بھی موجود تھے۔تقریب میں ڈگریاں حاصل کرنے والے طلباءو طالبا ت کے اہلخانہ نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔








