ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت کی جانے والی جدت طرازیوں کی نمائش 30 دسمبر کو ہو گی

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان 30 دسمبر کو تاریخی ’’ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ امپیکٹ شوکیسنگ 2025‘‘ کی میزبانی کرےگا جو کہ علم پر مبنی معیشت کی طرف ملک کی منتقلی کے لئے ایک اہم لمحہ ہے۔نمائش میں کاروباری رہنما، صنعتی ماہرین، پالیسی ساز، محققین اور سرمایہ کار پاکستان کے تحقیقی منظر نامے اور مقامی یونیورسٹیوں سے ابھرنے والے تکنیکی حل کا مشاہدہ کرنے کے لئے …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان 30 دسمبر کو تاریخی ’’ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ امپیکٹ شوکیسنگ 2025‘‘ کی میزبانی کرےگا جو کہ علم پر مبنی معیشت کی طرف ملک کی منتقلی کے لئے ایک اہم لمحہ ہے۔نمائش میں کاروباری رہنما، صنعتی ماہرین، پالیسی ساز، محققین اور سرمایہ کار پاکستان کے تحقیقی منظر نامے اور مقامی یونیورسٹیوں سے ابھرنے والے تکنیکی حل کا مشاہدہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوں گے۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت منظور شدہ 2.9 بلین روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ شروع کیا گیا ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ تعلیمی دانشورانہ املاک کو ٹھوس اقتصادی اثاثوں میں تبدیل کرکے قومی ترقی کے لئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے۔

گزشتہ کئی سالوں کے دوران جو جامعات میں کی جانے والی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو صنعت کی ضروریات سے جوڑتے ہوئے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ کا منصوبہ کمرشلائزیشن اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے ایک قومی انجن کے طور پر ابھرا ہے۔اس پروگرام میں آج تک 200 سے زیادہ پراجیکٹس دیئے گئے ہیں اور 192 پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں نے اجتماعی طور پر 192 پروٹو ٹائپس، 300 سے زیادہ تحقیقی اشاعتیں جن میں 241 امپیکٹ فیکٹر جرنلز شامل ہیں اور 116 قومی اور بین الاقوامی پیٹنٹس پیدا کئے ہیں۔اس منصوبے کے تحت کمرشلائزیشن کی رفتار یکساں طور پر قابل ذکر ہے جس میں 162 ٹیکنالوجی لائسنسوں پر دستخط کئے گئے، 18 سٹارٹ اپس اور سپن آف اقدامات کو فروغ دیا گیا اور 23 پراجیکٹس آمدنی پیدا کر رہے ہیں۔

مزید برآں ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں نے اقتصادی شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد کی ہے جبکہ یونیورسٹیوں کو ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ کے تعاون سے شروع کئے گئے 680 ملین روپے مالیت کے تکنیکی اور تحقیقی آلات سے فائدہ ہوا ہے۔نمائش کے دوران 100 سے زیادہ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ سے چلنے والی ٹیکنالوجیز کودکھایا جائے گا۔ یہ جدت طرازیاں صحت، زراعت، بائیوٹیکنالوجی، انجینئرنگ، انرجی سسٹمز، ماحولیاتی انتظام اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے اہم ڈومینز پر پھیلی ہوئی ہیں۔صنعت اور پرائیویٹ سیکٹر کے فیصلہ سازوں کے لئےیہ نمائش مقامی حل (جو درآمدی انحصار کو کم کرتے ہیں، سپلائی چین کو مضبوط کرتے ہیں اور پیداواری کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں) تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

سرمایہ کاروں کے لئے یہ تصدیق شدہ ٹیکنالوجیز جنہیں تعلیمی مہارت اور پروٹو ٹائپ کی توثیق کی حمایت حاصل ہے تک رسائی کو فراہم کرے گی ۔اس پروگرام میں حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کی نمایاں آوازوں کو اکٹھا کرنے کے لئے متعدد مباحثوں اور گفتگو کا ایک سلسلہ پیش کیا جائے گا۔ بڑھتی ہوئی لاگت اور مسابقت سے دوچار کاروباری اداروں کے لئے تقریب میں نمائش کے لئے پیش کی جانے والی ٹیکنالوجیز یہ ظاہر کریں گی کہ کس طرح مقامی جدت طرازی ترقی کے لئے ایک عملی پہیے کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ کے بڑھتے ہوئے نتائج ایسے وقت میں خاص طور پر متعلقہ ہیں جب پاکستان گلوبل انوویشن انڈیکس 2025 میں 139 ممالک میں 99 ویں نمبر پر ہے اور کم صنعتی مسابقت اور زیادہ درآمدی انحصار کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

ملک میں نوجوانوں کی بڑی آبادی کے ساتھ مقامی طور پر جدت طرازی کا فائدہ اٹھانا ایک سٹریٹجک ضرورت ہے۔ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ علم کو معاشی نتائج میں تبدیل کرنے میں مدد اور مقامی پیداوار، ملازمت کے مواقع بڑھانے اور ٹیکنالوجی کی مقامی ترویج کے لئے راستے ہموار کر رہا ہے۔پاکستان کی کاروباری کمیونٹی اور صنعتی شعبے کے لئے نمائش ایک اہم یاد دہانی کا کام کرے گی کہ ملک کے بہت سے مسلسل چیلنجز کا حل اس کی اپنی یونیورسٹیوں میں تیار کیا جا رہا ہے۔ اب تحقیق اور صنعت کے درمیان ایک مضبوط پل فراہم کرنے کی ضرورت ہے ، ایک ایسا پل جسے ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ نے بنایا ہے۔ نمائش کا مقصد اسے مزید مضبوط کرنا ہے۔