وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت ہیں ، حکومت اس شعبے کو موثر قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے
ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت ہیں، حکومت اس شعبے کو موثر قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے، وفاقی وزیر برائےقومی صحت

مزید خبریں
اسلام آباد۔9جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہربل ادویات وقت کی اہم ضرورت ہیں ، حکومت اس شعبے کو موثر قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہربل اور روایتی ادویات کے حوالے سے مناسب قانون اور ریگولیشنز موجود نہیں تھے تاہم وزارت صحت نے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا ہے اور مجوزہ قانون سازی وزارت قانون کو بھجوائی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس شعبے کے لیے باقاعدہ ریگولیشنز موجود ہوں گی۔مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ یہ سیمینار مغربی طرز علاج (ویسٹرن میڈیسن) کے خلاف نہیں بلکہ مختلف طریقہ ہائے علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے اور صحت کے نظام میں تمام موثر طریقہ ہائے علاج کو مناسب مقام ملنا چاہیے۔وفاقی وزیر قومی صحت نے کہا کہ پاکستان میں ایک مریض کے صحت یاب ہونے میں اوسطاً آٹھ دن لگتے ہیں جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں یہی دورانیہ تقریباً تین دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صحت کی سہولیات پر دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے، ہسپتالوں کی تعمیر کے باوجود مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر سال تقریباً 56 لاکھ نئے بچے پیدا ہو رہے ہیں جبکہ بیماریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہر گلی میں ہسپتال بنانے کے باوجود ضرورت پوری نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان صحت کے شعبے میں سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی تقریباً 85 فیصد ادویات ملک کے اندر تیار کی جاتی ہیں تاہم ان کی تیاری کے لیے درکار خام مال بڑی حد تک بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دو روزہ سیمینار کے اختتام پر ماہرین کی سفارشات اور گائیڈ لائنز کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کی روشنی میں عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر قومی صحت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اس شعبے کی ترقی اور موثر ضابطہ کاری کے لیے اقدامات جاری رکھے گی اور اس معاملے پر کسی قسم کی غفلت نہیں برتی جائے گی۔








