ہمارے لوگ درپیش مشکلات حالات کے باوجود علم کے ذریعے لاعلمی اور تکالیف کی زنجیریں توڑ سکتے ہیں،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا وڈیو پیغام

اسلام آباد ۔ 7 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک سال میں 35 کتب کا مطالعہ کیا، انہوں نے عوام میں کتب بینی کا شوق پیدا کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں سال 2019ءکے دوران زیر مطالعہ رہنے والی 10 پسندیدہ ترین کتب کی فہرست جاری کر دی۔ جمعہ کو ایوان صدر سے جاری کردہ صدر مملکت کی پسندیدہ ترین کتب کی فہرست اور اس …

اسلام آباد ۔ 7 فروری (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک سال میں 35 کتب کا مطالعہ کیا، انہوں نے عوام میں کتب بینی کا شوق پیدا کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں سال 2019ءکے دوران زیر مطالعہ رہنے والی 10 پسندیدہ ترین کتب کی فہرست جاری کر دی۔ جمعہ کو ایوان صدر سے جاری کردہ صدر مملکت کی پسندیدہ ترین کتب کی فہرست اور اس حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ویڈیو پیغام بھی جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے 2019ءمیں اپنے زیر مطالعہ رہنے والی پسندیدہ ترین کتب کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ صدر مملکت کی پسندیدہ کتب میں سرفہرست شاہ بلیغ الدین احمد کی ”تجلی“ ہے جو احادیث اور اسلامی تاریخ کے واقعات پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ صنعتی انقلاب سے متعلق کلاز شباب کی ”فورتھ انڈسٹریل ریوولوشن“، مصنوعی ذہانت کے میدان میں قیادت کی جنگ کے بارے میں کوفولی کی ”سپرپاور آف یو ایس اینڈ چائنہ“، صحت اور ٹیکنالوجی کے درمیان تعلق کے موضوع کی مناسبت سے ایرک ٹپول کی ”ڈیپ میڈیسن“، مستقبل میں دستیاب ملازمتوں کے مواقع کی نوعیت کے بارے میں ایلک روس کی ”دی انڈسٹریز آف دی فیوچر“، طبیعات اور کثیر الجہتی کائنات و کوانٹم کمپیوٹرز کے بارے میں فلپ بال کی ”بی اونڈ وائرڈ“، امریکہ کی بطور سپر پاور کی تاریخ کے بارے میں نوم چامسکی کی ”ہورولز دی ورلڈ“، سائنس، فلاسفہ اور انسانیت کے مستقبل کے موضوع پر سٹیفن ہاکنگ کی ”بریف آنسرز ٹوبگ کوئسچنز“، جعلی اور بری خبروں کی معاشرے میں قبولیت اور ان کے اثرات کے بارے میں ہانس روزلین کی ”فیکٹ فلنیس“ اور تبدیلی کی مناسبت سے میلکم گلینڈویل کی کتاب ”دی ٹپنگ پوائنٹ“ شامل ہیں۔ یہ فہرست صدر مملکت کی جانب سے 2019ءمیں مطالعہ کی گئیں کتب میں سے مرتب کی گئی ہے۔ اس حوالے سے صدرمملکت نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمارے لوگ درپیش مشکلات حالات کے باوجود علم کے ذریعے لاعلمی اور تکالیف کی زنجیریں توڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کا فقدان ہے، دنیا میں وہ قومیں ہی ترقی کرتی ہیں جو علم کی تلاش میں مسلسل کوشاں رہتی ہیں ۔ صدر مملکت نے کہا کہ وہ بچوں اور بڑوں کو مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، میں خود بھی دن بھر کی محنت کے بعد ذہنی سکون کیلئے کتابیں پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بہترین کتاب اللہ کی کتاب قرآن حکیم ہے جس کا مطالعہ کرتے رہنا چاہئے، اس کے علاوہ ہمیں دنیاوی علوم پر بھی دسترس حاصل کرنی چاہئے کیونکہ ہمارا مذہب بھی ہمیں علم کی تلاش کی تلقین کرتاہے اور صرف وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو علم کے حصول کیلئے کوشاں رہتی ہیں۔