ہندو ایم این ایز نے 2017ئ میں عبادت گاہ کی تعمیر کیلئے ہیومن رائٹس کمیشن میں درخواست دی تھی‘ وزارتِ انسانی حقوق کی درخواست پر سی ڈی اے نے 2017ءمیں ہی مندر کیلئے جگہ الاٹ کی‘ ترجمان وزارت مذہبی امور

اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) ترجمان وزارت مذہبی امور نے کہا ہے کہ ہندو ایم این ایز نے 2017ئ میں عبادت گاہ کی تعمیر کیلئے ہیومن رائٹس کمیشن میں درخواست دی تھی‘ وزارتِ انسانی حقوق کی درخواست پر سی ڈی اے نے 2017ءمیں ہی مندر کیلئے جگہ الاٹ کی۔ ترجمان نے وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتی ارکان پارلیمنٹ نے بھی وزارتِ مذہبی امور کو بھی …

اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) ترجمان وزارت مذہبی امور نے کہا ہے کہ ہندو ایم این ایز نے 2017ئ میں عبادت گاہ کی تعمیر کیلئے ہیومن رائٹس کمیشن میں درخواست دی تھی‘ وزارتِ انسانی حقوق کی درخواست پر سی ڈی اے نے 2017ءمیں ہی مندر کیلئے جگہ الاٹ کی۔ ترجمان نے وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتی ارکان پارلیمنٹ نے بھی وزارتِ مذہبی امور کو بھی مندر کی تعمیر کیلئے فنڈزکی درخواست کی تھی۔ وزارتِ مذہبی امور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر کیلئے فنڈز جاری نہیں کرتی۔ وزارتِ مذہبی امور اقلیتی عبادت گاہوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور نے یہ درخواست وزیر اعظم کے پاس بھجوا دی تھی۔ اقلیتی آبادی کی عبادت گاہ کی تعمیر کیلئے فنڈز سے متعلق فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔ ترجمان مذہبی امور نے کہا کہ وزیراعظم تمام تر سماجی اور مذہبی پہلوﺅں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرینگے۔ حکومت اس سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی اور مشاورت حاصل کرے گی۔ اسلام آباد میں مذہبی عبادت گاہوں کیلئے جگہ کی فراہمی کی ذمہ داری کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بطور ریاست و حکومت آئین کے مطابق اقلیتوں کے متعین شدہ حقوق کی حفاظت کرے گا۔ مذہبی آزادیوں کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ریاست پاکستان کی ہے۔ حکومت تمام تر دینی حلقوں اور مذہبی قائدین کی رائے کا احترام کرتی ہے۔ ہندو برادری مندرکاسنگ بنیاد اور تعمیر اپنے وسائل سے کر رہے ہیں۔