گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے خواندگی کے عالمی دن ہر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن ہمیں اس عزم اور احساس کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ تعلیم ہی ایک روشن، بااختیار اور پائیدار مستقبل کی بنیاد ہے۔ ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ بلوچستان کا خواب ہماری اجتماعی کوششوں سے حقیقت بن سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے حکومت، تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی اور معاشرے کے ہر …
گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل کا خواندگی کے عالمی دن ہر پیغام

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 07 ستمبر (اے پی پی):گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے خواندگی کے عالمی دن ہر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن ہمیں اس عزم اور احساس کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ تعلیم ہی ایک روشن، بااختیار اور پائیدار مستقبل کی بنیاد ہے۔ ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ بلوچستان کا خواب ہماری اجتماعی کوششوں سے حقیقت بن سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے حکومت، تعلیمی اداروں، اساتذہ، والدین، سول سوسائٹی اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
بلوچستان میں صوبے کی مجموعی شرحِ خواندگی میں 7 فیصد اضافہ اور سات لاکھ اڑسٹھ ہزار بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں واپس لانا محکمہ? تعلیم بلوچستان کی ایک قابلِ فخر کامیابی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ درست سمت، موثر پالیسی اور مسلسل محنت کے ذریعے تعلیمی میدان میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ تاہم آج خواندگی کا تصور صرف پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت تک محدود نہیں رہا۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور روبوٹکس کے دور میں خواندگی کا پیمانہ بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ پل پل بدلتی دنیا میں ڈیجیٹل لٹریسی ہی کسی فرد کو جدید دنیا سے باخبر، باصلاحیت اور موثر طور پر منسلک رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف روایتی تعلیم نہیں بلکہ ڈیجیٹل مہارتوں، سائنسی سوچ، تحقیق، تخلیقی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی قابلیت سے بھی آراستہ کرنا ہوگا۔ایک جامع، یکساں اور مستقبل شناس قومی تعلیمی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے جو جذبات کے بجائے سائنسی حقائق اور ژندہ انسانوں کی ضروریات کی بنیاد پر تشکیل دی جائے۔ ایسی پالیسی ہی پاکستان، بالخصوص بلوچستان کے نوجوانوں کو بدلتی ہوئی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتی ہے۔ بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری آج بھی تعلیم کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
ہمارے بہت سے ذہین اور تحقیق و تجسس سے معمور طلبہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے بجائے معاشی مجبوریوں کے باعث محنت و مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ خواندگی محض اعداد و شمار کا نام نہیں؛ یہ انسان کو اپنے حقوق، صلاحیتوں اور امکانات سے آگاہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ پڑھے لکھے اور باصلاحیت بلوچستان کا خواب صرف حکومت کی کوششوں سے مکمل نہیں ہو سکتا۔ بین الاقوامی اداروں، تعلیمی تنظیموں، نجی شعبے اور سماجی اداروں کی مدد و معاونت بھی ناگزیر ہے۔







