ہواوے آئی سی ٹی مقابلہ 26-2025کے عالمی فائنل میں پاکستان کی شاندار کامیابی

پاکستان نے چین کے شہر شین ژین میں 2 سے 5 جون 2026 تک منعقد ہونے والے ہواوے آئی سی ٹی مقابلہ 2025-26 کے عالمی فائنل میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرکے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ جمعرات کو جاری بیان کے مطابق اس سال کا مقابلہ اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ ثابت ہوا، جس میں 100 سے زائد ممالک اور خطوں کے 2 ہزار …

شین ژین۔11جون (اے پی پی):پاکستان نے چین کے شہر شین ژین میں 2 سے 5 جون 2026 تک منعقد ہونے والے ہواوے آئی سی ٹی مقابلہ 2025-26 کے عالمی فائنل میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرکے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ جمعرات کو جاری بیان کے مطابق اس سال کا مقابلہ اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ ثابت ہوا، جس میں 100 سے زائد ممالک اور خطوں کے 2 ہزار سے زائد تعلیمی اداروں کے 2 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ نے شرکت کی۔ عالمی فائنل میں 49 ممالک کی 175 سے زائد ٹیموں نے مقابلہ کیا۔ پاکستان سے تقریباً 12 ہزار طلبہ نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے سخت قومی اور علاقائی امتحانات کے بعد تین ٹیمیں عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوئیں۔پاکستان کے لیے سب سے بڑی کامیابی اس وقت سامنے آئی جب کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے محمد راشد مختار نے ہواوے آئی سی ٹی ٹیچنگ مقابلے میں گرینڈ پرائز اپنے نام کیا۔

انہیں تدریسی شعبے میں غیرمعمولی کارکردگی اور آئی سی ٹی تعلیم کے فروغ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں ’’موسٹ ویلیوایبل انسٹرکٹر ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا۔پریکٹس اینڈ انوویشن کیٹیگری میں پاکستان کی کمپیوٹنگ ٹریک ٹیم نے سیکنڈ پرائز حاصل کیا، جو پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے ٹیم کو پیش کیا۔ ٹیم میں لاہور گیریژن یونیورسٹی کے نعمان سجاد،یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا کی عدیبہ مبارک اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (ایبٹ آباد کیمپس) کی حرا خورشید شامل تھیں جبکہ ٹیم کی قیادت فرمان اللہ نے کی۔پاکستان کی نیٹ ورک ٹریک ٹیم نے تھرڈ پرائزحاصل کیا، جوسید سہیل حسین نقوی نے ٹیم کو دیا۔ ٹیم میں مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو کی نویرا اور انعام اللہ جبکہ سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کے محمد نعمان خان شامل تھے۔

ٹیم کی نگرانی ساقب حسین نے کی۔اسی طرح انوویشن ٹریک ٹیم نے بھی تھرڈ پرائز اپنے نام کیا، جوہائر ایجوکیشن کمیشن ( ایچ ای سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے ٹیم کو پیش کیا۔ ٹیم میں فاسٹ نیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے محمد عمر فاروق، ملک عزام عارف اور طلحہ اصغر شامل تھے، جبکہ ان کے انسٹرکٹر ڈاکٹر محمد عاصم تھے۔اختتامی تقریب میں پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے شرکت کی اور کامیاب طلبہ میں تمغے تقسیم کیے۔ انہوں نے طلبہ کی محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے نوجوانوں کو عالمی سطح پر سیکھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے پر ہواوے کی کاوشوں کی تعریف کی۔ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے بھی تقریب میں شرکت کی اور کہا کہ ہواوے پاکستانی طلبہ کو عالمی معیار کا پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے، جس کے ذریعے وہ بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

ہواوے پاکستان کے سی ای او برائے اے آئی اینڈ کلاؤڈ بزنس احمد بلال مسعود نے بھی طلبہ کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی فائنل میں پاکستان کی شاندار کارکردگی ملک کے آئی سی ٹی شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور نوجوانوں کے غیرمعمولی ٹیلنٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز نہ صرف پاکستانی طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔پاکستان کی جانب سے ٹیچنگ، کمپیوٹنگ، نیٹ ورک اور انوویشن سمیت مختلف شعبوں میں حاصل کی گئی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک کے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی ادارے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور ڈیجیٹل دنیا میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

مزید خبریں