ہیٹ کی بروقت شناخت سے جانوروں کی افزائش اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے،محکمہ لائیو سٹاک

محکمہ لائیوسٹاک نے مویشی پال حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ جانوروں میں ایسٹرس (ہیٹ) کی علامات کو بروقت پہچانیں تاکہ مصنوعی نسل کشی یا قدرتی ملاپ درست وقت پر کرایا جا سکے

فیصل آباد۔ 23 جولائی (اے پی پی):محکمہ لائیوسٹاک نے مویشی پال حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ جانوروں میں ایسٹرس (ہیٹ) کی علامات کو بروقت پہچانیں تاکہ مصنوعی نسل کشی یا قدرتی ملاپ درست وقت پر کرایا جا سکے۔ یہ بات ڈائریکٹرلائیو سٹاک فیصل آباد ڈاکٹر حیدر علی خان نے ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ ہیٹ کی درست شناخت نہ صرف حاملہ ہونے کی شرح میں اضافہ کرتی ہے بلکہ فارم کی مجموعی پیداواری صلاحیت اور کسان کی آمدنی میں بھی بہتری لاتی ہے۔ مصنوعی نسل کشی کے لیے عام طور پر AM-PM Rule پر عمل کیا جاتا ہے یعنی اگر گائے صبح ہیٹ میں نظر آئے تو شام کو AIکرائی جائے اوراگر شام کو ہیٹ میں آئے تو اگلی صبح AIکرائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف جانوروں میں ہیٹ کا دورانیہ مختلف ہوتا ہے۔ گائے میں عموماً 12 سے 18 گھنٹے، بھینس میں 12 سے 24 گھنٹے، بکری میں 24 سے 48 گھنٹے جبکہ بھیڑ میں 24 سے 36 گھنٹے تک رہ سکتا ہے، اس دوران جانور بے چینی، بار بار آواز نکالنے، دم ہلانے، شفاف رطوبت خارج ہونے، خوراک میں کمی اور نر جانور کی طرف رغبت جیسی علامات ظاہر کر سکتا ہے۔ انہوں نے مویشی پال حضرات کو ہدایت کی کہ وہ صبح اور شام کے اوقات میں جانوروں کا بغور مشاہدہ کریں کیونکہ انہی اوقات میں ہیٹ کی علامات زیادہ واضح ہوتی ہیں۔ بروقت تشخیص اور مناسب وقت پر مصنوعی نسل کشی سے حمل کے امکانات بڑھتے ہیں، غیر ضروری اخراجات کم ہوتے ہیں اور دودھ و گوشت کی پیداوار میں خاطر خواہ بہتری آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی جانور میں ہیٹ کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر اپنے قریبی ویٹرنری ہسپتال، ڈسپنسری یا فیلڈ سٹاف سے رابطہ کریں تاکہ جانور کی بروقت مصنوعی نسل کشی کروا کر بہتر افزائشی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔