ہیپاٹائٹس سے بچائو کا سب سے موثر طریقہ بروقت سکریننگ اور ابتدائی تشخیص ہے، ڈاکٹر محمد فاروق افضل

"پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس جیسے خاموش اور موذی مرض سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ بروقت اسکریننگ اور ابتدائی تشخیص ہے۔”

لاہور۔29جولائی (اے پی پی):پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کہا کہ ہیپاٹائٹس جیسے خاموش اور موذی مرض سے بچائو کا سب سے موثر طریقہ بروقت سکریننگ اور ابتدائی تشخیص ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار وزیراعلی مریم نواز کے ہیلتھ ویژن کی روشنی میں ایل جی ایچ میں ہیپاٹائٹس سے بچائو کے متعلق آگاہی واک کی قیادت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیا، سماجی تنظیموں، طبی اداروں اور عوام کو مل کر اس مرض کے خلاف شعور اجاگر کرنا ہوگا تاکہ بروقت علاج سے ہزاروں جانیں بچائی جا سکیں۔ واک میں پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب، پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، ڈاکٹر غیاث الحسن سمیت بڑی تعداد میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسز نے شرکت کی جن کے ہاتھوں میں پلے کارڈز درج نعرے نمایاں تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے بتایا کہ وزیراعلی پنجاب کے صحت کے ویژن کے تحت جنرل ہسپتال میں مریضوں کو معیاری طبی اور تشخیصی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جہاں ہر روز ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا چیک اپ، لیبارٹری ٹیسٹ، مفت ادویات اور مکمل علاج ممکن بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی جی ایم آئی اور ایل جی ایچ اس مشن کو جاری رکھیں گے تاکہ پنجاب کو ہیپاٹائٹس سے پاک صوبہ بنایا جا سکے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے ہیپاٹائٹس بی اور سی کو خاموش قاتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مراحل میں علامات ظاہر نہ ہونے کے باعث ہر صحت مند فرد کو باقاعدگی سے سکریننگ کرانی چاہیے کیونکہ یہ مرض غیر محفوظ خون، استعمال شدہ سرنجوں اور غیر سٹریل دانتوں کے آلات سے تیزی سے پھیلتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد تقریبا ًایک کروڑ کے لگ بھگ ہے اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد جگر کے کینسر یا جگر کے فیل ہونے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مرض کی عام علامات میں شدید تھکاوٹ، جسمانی کمزوری، یرقان، متلی، قے، بھوک میں کمی، پیٹ کے دائیں جانب درد اور پیشاب کا رنگ گہرا ہونا شامل ہیں۔ ماہرین نے بچائو کے لیے ہر چھ ماہ بعد سکریننگ، ہیپاٹائٹس بی ویکسین کی تینوں خوراکیں مکمل کرنے، ایک بار استعمال ہونے والی سرنج، ٹیسٹ شدہ خون کا استعمال، اور ذاتی چیزیں (استرے، ٹوتھ برش، نیل کٹر) شیئر نہ کرنے پر زور دیا جبکہ ختنے اور دانتوں کا علاج صرف مستند مراکز سے کرانا چاہیے جبکہ بیوٹی سیلونز کے معیارات پر بھی جامع مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے بتایا کہ جنرل ہسپتال میں ہیپاٹائٹس کلینک مکمل طور پر فعال ہے جہاں مریضوں کو تمام ٹیسٹ اور علاج بلا معاوضہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر غیاث الحسن نے منتظمین، شرکاء اور میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی آگاہی ہی اس بیماری کے خلاف سب سے بڑی جنگ ہے اور پی جی ایم آئی و لاہور جنرل ہسپتال صوبہ پنجاب کو ہیپاٹائٹس سے پاک بنانے کے لیے ایسی مہمات آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔

مزید خبریں