یاماہا موٹرسائیکلز کی پاکستان سے مینوفیکچرنگ آپریشنز ختم کرنے کی بنیادی وجہ کمپنی کو درپیش مسابقتی دباؤ تھا، ہارون اختر خان

یاماہا موٹرسائیکلز کی پاکستان سے مینوفیکچرنگ آپریشنز ختم کرنے کی بنیادی وجہ کمپنی کو درپیش مسابقتی دباؤ تھا، ہارون اختر خان

اسلام آباد۔20اگست (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ یاماہا موٹرسائیکلز کی پاکستان سے مینوفیکچرنگ آپریشنز ختم کرنے کی بنیادی وجہ ملکی معیشت، شرح سود یا بجلی کی قیمتیں نہیں بلکہ کمپنی کو درپیش مسابقتی دباؤ تھا۔ جمعرات کو سینیٹ اجلاس میں سینیٹر کامل علی آغا کی جانب سے جمع کرائے تحریری سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے انہیں خصوصی ہدایت کی تھی کہ یاماہا موٹرسائیکلز کے حکام سے ملاقات کرکے پاکستان سے کاروباری آپریشنز ختم کرنے کی وجوہات معلوم کی جائیں۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے گزشتہ سال جون یا جولائی کے قریب پاکستان سٹاک ایکسچینج کو باضابطہ طور پر اپنے انخلا ء کے ارادے سے آگاہ کیا تھا تاہم ابھی تک انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو اس حوالے سے باضابطہ خط نہیں لکھا گیا۔ہارون اختر خان نے بتایا کہ کمپنی نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ سے تقریباً پانچ ہزار موٹرسائیکلوں کی فروخت کی اجازت مانگی تھی جو اسے دے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کے کاروباری فیصلے عموماً ان کا ذاتی معاملہ ہوتے ہیں تاہم انہوں نے یاماہا حکام سے تفصیلی بات چیت کی جس سے واضح ہوا کہ پاکستان سے مینوفیکچرنگ آپریشنز ختم کرنے کا فیصلہ ملکی معاشی حالات، شرح سود یا بجلی کی قیمتوں سے متعلق نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کو بعض ممالک سے آنے والی موٹرسائیکلوں کے معیار اور قیمت کے حوالے سے مسابقتی دباؤ کا سامنا تھا جس کے باعث کمپنی نے پاکستان میں اپنے مینوفیکچرنگ آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ کیا۔مشیر صنعت و تجارت نے کہا کہ حکومت نے موجودہ معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے مؤثر اقتصادی اقدامات کئے ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ دو برس کے دوران شرح سود میں نمایاں کمی آئی، ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی گئی اور بجلی کی قیمتوں میں بھی بہتری لانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی مثبت رجحان سامنے آیا ہے۔

گزشتہ مالی سال بڑی صنعتی پیداوار میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس سے قبل یہ شعبہ مسلسل تقریباً تین سال منفی نمو کا شکار رہا تھا۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے مثبت اثرات چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں پر بھی مرتب ہوتے ہیں کیونکہ یہ ادارے بڑی صنعتوں کو مختلف مصنوعات اور خدمات فراہم کرتے ہیں جس سے مجموعی معاشی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں کاروباری لاگت کم کرنے اور ملکی صنعت کو مسابقتی بنانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی گئی ہے اور حکومت کی آئندہ سمت بھی ٹیکسوں میں کمی کی جانب ہے۔