یورپی یونین امریکہ تجارتی معاہدے میں 15 فیصد ٹیرف جرمن کار ساز کمپنیوں پر سالانہ اربوں یورو کا بوجھ ڈالے گا، وی ڈی اے

فرینکفرٹ۔28جولائی (اے پی پی):جرمن آٹو انڈسٹری گروپ ’’وی ڈی اے‘‘ نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے میں گاڑیوں پر عائد 15 فیصد ٹیرف جرمن کار ساز اداروں کے لیے مالی بوجھ کا سبب بنے گا۔اے ایف پی کے مطابق جرمن آٹو انڈسٹری گروپ وی ڈی اے کی صدر ہلڈیگارڈ مولر نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے آٹوموٹیو مصنوعات پر 15 …

فرینکفرٹ۔28جولائی (اے پی پی):جرمن آٹو انڈسٹری گروپ ’’وی ڈی اے‘‘ نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے میں گاڑیوں پر عائد 15 فیصد ٹیرف جرمن کار ساز اداروں کے لیے مالی بوجھ کا سبب بنے گا۔اے ایف پی کے مطابق جرمن آٹو انڈسٹری گروپ وی ڈی اے کی صدر ہلڈیگارڈ مولر نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے آٹوموٹیو مصنوعات پر 15 فیصد ٹیرف جرمن کار ساز کمپنیوں پر سالانہ اربوں یورو کا بوجھ ڈالے گا۔انہوں نے کہا کہ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ معاہدہ عملی طور پر کیسا نظر آتا ہے اور اس کی پائیداری کتنی ہے۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن کے درمیان اتوار کی شب طے پانے والے معاہدے کے بعد سامنے آیا جس کا مقصد یورپ اور امریکہ کے درمیان مکمل تجارتی جنگ کو روکنا ہے۔معاہدے کے تحت 15 فیصد ٹیرف مقرر کیا گیا ہے جو اپریل میں لگائے گئے 25 فیصد ٹیرف سے کم تاہم سابقہ 2.5 فیصد ڈیوٹی سے کہیں زیادہ ہے،یورپ میں اس معاہدے پر ردعمل ملا جلا رہا ہے۔

جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹرانس اٹلانٹک تجارتی تعلقات میں غیر ضروری کشیدگی سے بچاؤ ممکن ہواتاہم یورپی کمیشن کی صدر وان ڈیر لیئن نے تسلیم کیاکہ 15 فیصد کوئی معمولی شرح نہیں لیکن یہی سب سے بہتر ممکنہ نتیجہ تھا۔فرانس کے وزیر برائے یورپ بینجمن حداد نے معاہدے کو "غیر متوازن” قرار دیاجبکہ جرمنی کی بزنس فیڈریشن بی ڈی آئی نے خبردار کیا کہ اس معاہدے کے "نمایاں منفی اثرات” مرتب ہوں گے۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔