یورپی یونین کی پابندیوں پر روس کا ردعمل، مزید شخصیات بلیک لسٹ

ماسکو۔23جولائی (اے پی پی):روس نے یورپی یونین کے اداروں، رکن ممالک اور دیگر یورپی ممالک کے نمائندوں پر سفری پابندیوں کی فہرست میں توسیع کر دی ہے۔ شنہوا کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ اس فہرست میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومتی و تجارتی تنظیموں کے نمائندے اور یورپی یونین کے رکن ممالک و دیگر مغربی ممالک کے وہ شہری شامل ہیں جو یوکرین کو …

ماسکو۔23جولائی (اے پی پی):روس نے یورپی یونین کے اداروں، رکن ممالک اور دیگر یورپی ممالک کے نمائندوں پر سفری پابندیوں کی فہرست میں توسیع کر دی ہے۔ شنہوا کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ اس فہرست میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومتی و تجارتی تنظیموں کے نمائندے اور یورپی یونین کے رکن ممالک و دیگر مغربی ممالک کے وہ شہری شامل ہیں جو یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے، یوکرین کو دوہری استعمال کی مصنوعات کی ترسیل میں مدد دینے،

روس کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا بالٹک سمندر میں روسی جہازوں اور کارگو کے خلاف ناکہ بندیوں کا اہتمام کرنے کے ذمہ دار ہیں۔روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ فہرست میں یورپی یونین کے اداروں، رکن ممالک اور دیگر یورپی ریاستوں کے وہ حکام بھی شامل ہیں جو روسی عہدیداروں کے خلاف مبینہ غیر قانونی حراستوں اور یوکرین سے جبری بے دخلیوں کے سیاسی مقدمات میں شامل ہیں۔فہرست میں ان افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو روس مخالف پابندیوں کی تیاری یا نفاذ میں شامل ہیں، روس کے دیگر ممالک سے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں،

کھلے عام روس مخالف سرگرمیوں میں شامل کارکنان اور اکیڈمک حلقے کے نمائندے، نیز یورپی پارلیمنٹ کے وہ ارکان جنہوں نے روس مخالف قراردادوں اور مسودہ قوانین کے حق میں ووٹ دیا۔وزارت نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں سے متعلق مزید فیصلوں کا بروقت اور مناسب جواب دیا جائے گا۔

یورپی یونین کی کونسل نے روس پر پابندیوں کے 17ویں اور 18ویں پیکجز بالترتیب 20 مئی اور 18 جولائی کو منظور کئے تھے۔18ویں پیکج کے تحت 50 سے زائد افراد اور اداروں کو بلیک لسٹ کیا گیا، روسی تیل کی قیمت کی حد 60 امریکی ڈالر فی بیرل سے کم کر کے 47.6 امریکی ڈالر کر دی گئی، اور روسی تیل سے بنے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔