پابندیوں کا میکا نزم فعال کرنے کا سب سے زیادہ نقصان پورپ کو ہوگا ، ایران کا انتباہ

تہران ۔29جولائی (اے پی پی):ایران نے یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ 2015کے جوہری معاہدے کے تحت طے شدہ پابندیوں کا میکا نزم فعال کرنے کا سب سے زیادہ نقصان پورپ کو ہی ہوگا ۔ العربیہ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر یورپی ممالک نے کوئی قدم اٹھایا تو ایران کے پاس بھی مؤثر جوابی اقدامات …

تہران ۔29جولائی (اے پی پی):ایران نے یورپی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ 2015کے جوہری معاہدے کے تحت طے شدہ پابندیوں کا میکا نزم فعال کرنے کا سب سے زیادہ نقصان پورپ کو ہی ہوگا ۔ العربیہ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس چیف مجید خادمی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر یورپی ممالک نے کوئی قدم اٹھایا تو ایران کے پاس بھی مؤثر جوابی اقدامات کے راستے موجود ہیں۔یاد رہے کہ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں ایران، یورپ، امریکا، چین اور روس شامل تھے۔

اس معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں مرحلہ وار اٹھانے کا وعدہ کیا گیا۔تاہم، 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔اس کے برعکس فرانس ، برطانیہ اور جرمنی نے معاہدے سے وابستگی برقرار رکھی اور ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھی، جس سے ایران پر بین الاقوامی پابندیاں مؤخر ہو گئیں۔

تاہم اب یورپی طاقتیں ایران پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہی ہیں اور پابندیوں کا میکا نزم کو فعال کرنے کی دھمکی دے رہی ہیں۔ اس میکانزم کے تحت ایران پر دوبارہ اقوام متحدہ کی پابندیاں اکتوبر میں عائد کی جا سکتی ہیں، جس سے ایران بچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ایران ماضی میں دھمکی دے چکا ہے کہ اگر ایسی پابندیاں دوبارہ لگائی گئیں تو وہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے بھی علیحدگی اختیار کر سکتا ہے، تاہم ایرانی قیادت اس منظرنامے سے بچنا چاہتی ہے۔

 

 

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔