یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی کے لیے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن سے براہ راست ملاقات کا مطالبہ کر دیا ہے
یوکرینی صدر نے جنگ بندی کے لیے روسی ہم منصب کے ساتھ براہ راست ملاقات کی تجویز پیش کر دی
کیف ۔5جون (اے پی پی):یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جنگ بندی کے لیے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن سے براہ راست ملاقات کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ بی بی سی کے مطابق روسی کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کی نئی کوشش کے تحت یوکرینی صدر نے روسی صدر سے کہا کہ اس وقت امریکا کی ساری توجہ مکمل طور پر ایران کے معاملے پر مرکوز ہے جو کچھ وقت کے بعد دوبارہ یوکرین کی طرف منتقل ہو سکتی ہے اس لیے اب جنگ بندی کے لئے انتظار کرنا غلط ہوگا ۔ یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ امن صرف یوکرین اور روس کے درمیان ’براہِ راست روابط‘ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے مجوزہ مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا ۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ ان کے خیال میں روس کے یوکرین کے صدور کے درمیان ملاقات بہت اچھی بات ہو گی۔روسی حکام نے یوکرینی صدر کا مذکورہ خط موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ولادی میر پیوٹن کو اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔اس خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ یوکرین تجویز کرتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہمارے اور آپ کے درمیان براہِ راست روابط کے ذریعے کیا جائے۔ میں ایک ملاقات کی تجویز دے رہا ہوں۔ سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اور بظاہر خط کے مندرجات دیکھے بغیر روسی صدر نے کہا کہ وہ یقیناً یوکرین کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار اور آمادہ ہیں تاہم اس کے لیے سمجھوتے کرنا ہوں گے۔









