یوکرین نے روس کے زیر تسلط آنے والی اپنی چار بڑی بندرگاہوں کو باضابطہ طور پر بند کر دیا

کیف ۔4مئی (اے پی پی):یوکرین نے اپنی چار بڑی بندگاہوں کو باضا بطہ طور بند کر دیا ہے جن میں بحیرہ اسود کی ایک اور ازوف کی تین بندرگاہیں شامل ہیں،یوکرین کی وزارت زراعت نے کہا ہے کہ یوکرین نے اپنی چار بڑی بندگاہوں کو باضا بطہ طور بند کر دیا ہے جن پر روسی افواج نے قبضہ کر لیا ہے۔ بدھ کو وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ …

کیف ۔4مئی (اے پی پی):یوکرین نے اپنی چار بڑی بندگاہوں کو باضا بطہ طور بند کر دیا ہے جن میں بحیرہ اسود کی ایک اور ازوف کی تین بندرگاہیں شامل ہیں،یوکرین کی وزارت زراعت نے کہا ہے کہ یوکرین نے اپنی چار بڑی بندگاہوں کو باضا بطہ طور بند کر دیا ہے جن پر روسی افواج نے قبضہ کر لیا ہے۔

بدھ کو وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ماریوپول، برڈیانسک اور سکاڈوسک کی ازوف سمندری بندرگاہیں اور بحیرہ اسود کی بندرگاہ خرسن کو "کنٹرول کی بحالی تک” بند کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کو اپنانے کی وجہ یوکرین کی طرف سے جہازوں اور مسافروں کو سروس فراہم کرنے، کارگو، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ اقتصادی سرگرمیوں کو انجام دینے، نیویگیشن کی مناسب سطح کی حفاظت کو یقینی بنانا ناممکن ہو جانا ہے،یوکرینی وزارت زراعت کے مطابق فروری کے آخر میں روسی حملے کے نتیجے میں یوکرین کی تمام بندرگاہوں نے اپنی سرگرمیاں عارضی طور معطل کر دی تھیں ۔

وزارت کے مطابق روسی افواج نے کچھ بندرگاہوں پر قبضہ کر لیا اور کچھ کی ناکہ بندی کر دی ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کو کہا ہے کہ بحیرہ اسود کی ترسیل پر روس کے کنٹرول کی وجہ سے یوکرین لاکھوں ٹن اناج سے محروم ہو سکتا ہے، جس سے خوراک کا بحران پیدا ہو گا جس سے یورپ، ایشیا اور افریقہ متاثر ہوں گے۔

زیلنسکی نے بتایا کہ روس بحری جہازوں کو اندر آنے یا باہر جانے نہیں دیتا، وہ بحیرہ اسود کو کنٹرول کر رہا ہے۔روس ہمارے ملک کی معیشت کو مکمل طور پر روکنا چاہتا ہے۔یوکرین، جو ایک بڑا زرعی پیداوار ہے، اپنی زیادہ تر اشیاء سمندر کے ذریعے برآمد کرتا تھا لیکن اسے اب اپنی زرعی مصنوعات مغربی سرحد کے ذریعے یا دریائے ڈینیوب کی چھو ٹی بندرگاہوں اور ٹرین کے ذریعے برآمد کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔