اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):یوگنڈا کی میکیریری یونیورسٹی میں فوڈ سسٹمز میں جدت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی کانفرنس اور تربیتی ورکشاپ شروع ہوگئی ہے۔ یہ ورکشاپ او آئی سی کامسٹیک، اسلامی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم (آئسیسکو) اور میکیریری یونیورسٹی کے مشترکہ تعاون سے منعقد کی جارہی ہے۔افتتاحی تقریب میں یوگنڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد حسن وزیر ، وائس چانسلر میکیریری پروفیسر برنا …
یوگنڈا میں کامسٹیک کے تعاون سے فوڈ سسٹمز میں جدت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی کانفرنس اور تربیتی ورکشاپ شروع

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):یوگنڈا کی میکیریری یونیورسٹی میں فوڈ سسٹمز میں جدت اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی کانفرنس اور تربیتی ورکشاپ شروع ہوگئی ہے۔ یہ ورکشاپ او آئی سی کامسٹیک، اسلامی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم (آئسیسکو) اور میکیریری یونیورسٹی کے مشترکہ تعاون سے منعقد کی جارہی ہے۔افتتاحی تقریب میں یوگنڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد حسن وزیر ، وائس چانسلر میکیریری پروفیسر برنا بس ناوانگ وے اور دیگر معززین شریک ہوئے۔
کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چوہدری نے خطاب میں کہا کہ اسلامی دنیا کو خوراک کے تحفظ کے لیے سائنسی تعاون بڑھانا ہوگا، اب تحقیق اور ٹیکنالوجی ہی مستقبل کی اصل قوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں او آئی سی کے 27 سے زائد ممالک کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔ شرکا کو کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر، ماحول دوست پیداوار، غذائیت اور زرعی توانائی سے متعلق تربیت دی جائے گی۔
پروفیسر اقبال چوہدری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوان ماہرین کو تیار کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس اسلامی ممالک میں پائیدار زراعت اور جدید فکری قیادت کو فروغ دے گی۔تین روزہ ورکشاپ 30 اکتوبر تک جاری رہے گی، جس میں بین الاقوامی ماہرین، لیکچرز، مباحثے اور تربیتی سیشنز کے ذریعے رہنمائی فراہم کریں گے۔








