10 ارب ڈالر کی سویپ لائن معاملے پر پاکستان کوامریکا کی جانب سے تعمیری پیش رفت ملی ہے، رواں مالی سال میں یورو بانڈز سے 1 تا 2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہدف ہے، وزیرخزانہ کا فنانشل ٹائمز کو انٹرویو

10 ارب ڈالر کی سویپ لائن معاملے پر پاکستان کوامریکا کی جانب سے تعمیری پیش رفت ملی ہے، رواں مالی سال میں یورو بانڈز سے 1 تا 2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہدف ہے، وزیرخزانہ کا فنانشل ٹائمز کو انٹرویو

اسلام آباد۔25اگست (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ 10 ارب ڈالر کی سویپ لائن کے معاملے پر پاکستان کوامریکا کی جانب سے تعمیری پیش رفت ملی ہے اور امید ہے کہ اگلے چند ماہ میں جواب موصول ہو جائے گا، درآمدات پرانحصارکی بجائے برآمدات پرمبنی ترقی ونمو پرہماری گہری نظر ہے، پاکستان رواں مالی سال میں یورو بانڈز سے 1 ارب سے 2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔ فنانشل ٹائمز کو انٹرویومیں وزیرخزانہ نے کہاکہ عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کی منصوبہ بندی کے تناظرمیں پاکستان نے امریکا سے مالی تعاون حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ ماہ پاکستان کی جانب سے واشنگٹن سے مانگی گئی 10 ارب ڈالر کی سویپ لائن کا مقصد نجی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا اشارہ دینا تھا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) اور ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن کابہت اہم کردارہے جنہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے ممکنہ مالی خطرات برداشت کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر امریکہ کے ساتھ روابط کا ایک مجموعہ ہے جس کا مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاو پر توجہ مرکوز کرنا اور بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس کے حوالے سے مثبت اشارے دینا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ 10 ارب ڈالر کی سویپ لائن کے معاملے پر اسلام آباد کو واشنگٹن کی جانب سے تعمیری پیش رفت ملی ہے اور انہیں امید ہے کہ اگلے چند ماہ میں جواب موصول ہو جائے گا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت درآمدات پر انحصار کم کرنے اورملک کو درپیش ادائیگیوں کے توازن کے مسلسل بحرانوں سے نکالنے کے لیے برآمدات کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت کی جانب سے لیکویڈٹی بڑھا کر اور کھپت پر مبنی ترقی کی جانب بڑھ کر معیشت کو تیزی سے آگے بڑھانے کی کوشش سے ہم بہت جلد مشکلات میں پھنس جاتے ہیں کیونکہ ہم درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشت ہیں۔ اس لیے درآمدات پرانحصارکی بجائے برآمدات پرمبنی ترقی ونمو پرہماری گہری نظر ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ ایگزم بینک پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو بوئنگ طیاروں کی فروخت کے لیے مالی معاونت اور امریکی کمپنیوں کو پاکستان کی آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن میں مدد دے سکتا ہے جبکہ ڈی ایف سی پاکستانی کاروباری گروپوں میں ایکویٹی حصص حاصل کر سکتی ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان بیک وقت امریکا اورچین کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون بڑھا سکتا ہے تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان اس وقت چین سے اضافی مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ یورو بانڈز کا اجرا مارکیٹ کی قیمت اور میچورٹی پر منحصر ہوگا تاہم پاکستان رواں مالی سال میں یورو بانڈز سے 1 ارب سے 2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان 75 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈز جاری کرنے کے لیے چوتھے ٹینڈرکی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے جو چین کی کیپٹل مارکیٹس کے حجم کے پیش نظر انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت اہم ریٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ کام کررہاہے تاکہ اگلے تقریبا 12 ماہ میں دوبارہ بی پلس تک پہنچ سکیں لیکن ہمارا ہدف کم از کم ڈبل بی کو سامنے رکھنا اور پھر وہاں سے اپنی حکمت عملی ترتیب دینا ہے۔ اور ایسی کوئی وجہ نہیں کہ ہم وہاں تک نہ پہنچ سکیں۔