اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):1971کی جنگ میں پاک فوج نے بھارتی افواج اور دہشتگرد مکتی باہنی کے ظلم و بربریت کے سامنے بہادری کی تاریخ رقم کی ۔ بہادری اور جرات مندی کی کئی ان دیکھی اور ان سنی داستانوں میں سے ایک کہانی میجر انیس احمد خان شہید کی بھی ہے۔میجر انیس احمد خان کی سپاہ کو دریائے کوباڈک کے جزیرہ نما علاقہ کومکتی باہنی کے دہشتگردوں سے آزاد …
1971 کی جنگ میں بھارتی بربریت اور مکتی باہنی کے مظالم، میجر انیس احمد خان شہید کی بہادری کی داستان
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):1971کی جنگ میں پاک فوج نے بھارتی افواج اور دہشتگرد مکتی باہنی کے ظلم و بربریت کے سامنے بہادری کی تاریخ رقم کی ۔
بہادری اور جرات مندی کی کئی ان دیکھی اور ان سنی داستانوں میں سے ایک کہانی میجر انیس احمد خان شہید کی بھی ہے۔میجر انیس احمد خان کی سپاہ کو دریائے کوباڈک کے جزیرہ نما علاقہ کومکتی باہنی کے دہشتگردوں سے آزاد کرانے کا مشن سونپا گیا۔
مضبوط دفاعی مورچوں سے لیس 6 مربع میل کے علاقہ پر پھیلا ہوا یہ جزیرہ مکتی باہنی کے دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ تھا۔جذبہ شہادت سے سرشار میجر انیس احمد خان اپنے جوانوں کے ساتھ آرٹلری کے بغیر دشمن کو سبق سکھانے میدان میں اتر گئے ۔پاک فوج کے بہادر جوانوں نے دشمن کی سخت مزاحمت کے باوجود بیس فٹ گہرے دریائے کوباڈک کو عبور کر کے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔
گھمسان کی لڑائی میں میجر انیس احمد خان دشمن کے مورچے سے چند قدم دور جام شہادت نوش کر گئے۔اس مشکل آپریشن میں وطن کی حرمت کیلئے 50 سے زائد بہادر جوانوں نے بھی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
مکتی باہنی اور بھارتی فوج کی سفاکیت کے بعد میجر انیس احمد خان اور جوانوں کی قربانی نے قوم کو سر اٹھا کر جینے کاحوصلہ دیا۔وطن کی حرمت اور بقا کےلئے 1971 کے شہدا کی قربانیاں رہتی دنیا تک سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔









