20 فیصد نتائج والے سکول اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی ہو گی،صوبائی وزیر تعلیم

صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ 20 فیصد نتائج والے سکول اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی ہو گی

لاہور۔11ستمبر (اے پی پی):صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا ہے کہ 20 فیصد نتائج والے سکول اساتذہ کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ان خیالات کا اظہار وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ 2 سالوں میں معیار تعلیم مجموعی طور پر بلند ہوا ہے لیکن شفافیت اور نقل مافیا کے خاتمے کے بعد نتائج کی شرح میں فرق پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں کی نسبت اس سال کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی سنٹر میں نقل ہوئی یا کہیں پیپر لیک ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس سال نویں کلاس کا نصاب گلوبل سٹینڈرڈ کے مطابق اپڈیٹ اور شارٹ کیا گیا ہے جبکہ آن سکرین مارکنگ کا تجرباتی طور پر آغاز کیا ہے۔آئندہ سال یہ سسٹم مکمل طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔ پریکٹیکل امتحانات کی مارکنگ بھی پہلی مرتبہ بورڈز میں کی گئی۔رانا سکندر حیات نے مزید کہا کہ بورڈ میں کی جانے والی حالیہ ریفارمز اور مارکنگ سسٹم تبدیل اور سخت کیے جانے کے بعد امتحانی نتائج میں تبدیلی آنا معمولی بات ہے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ نتائج کے حوالے سے کمیٹی تشکیل کر رہے ہیں جبکہ20 فیصد تک رزلٹ والے2200 سکول منتحب کر لئے گئے ہیں،جہاں کے اساتذہ کو خراب نتائج پر شوکاز نوٹس نہیں ملے گا بلکہ نوکری سے برخاست کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہائی پرفارمنگ اساتذہ کو ایوارڈ دینے جا رہے ہیں۔آئوٹ سورس سکولوں کا نتیجہ مجموعی طور پر81 فیصد آیا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ کچھ اساتذہ کی کارکردگی بہتر نہیں ہے،ان کا فیصلہ کرنے میں ہم حق بجانب ہیں۔مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ اس سال سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں انرولمنٹ کی شرح کم ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔پبلک کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ ریکارڈ پر ہے۔