اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ 2024 میں پی آئی اے کو 23 ارب 40 کروڑ روپے منافع ہوا ہے تاہم اس پر قرضوں کا اس قدر بوجھ ہے کہ اس کی نجکاری ہی اس کا حل ہے جبکہ ڈپٹی سپیکر نے ارکان کی جانب سے اس معاملہ پر زائد سوالات اٹھانے پر اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی …
2024 میں پی آئی اے کو 23 ارب 40 کروڑ روپے منافع ہوا ہے ،اس پر قرضوں کا اس قدر بوجھ ہے اس کی نجکاری ہی اس کا حل ہے ، پارلیمانی سیکرٹری زیب جعفر

مزید خبریں
اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ 2024 میں پی آئی اے کو 23 ارب 40 کروڑ روپے منافع ہوا ہے تاہم اس پر قرضوں کا اس قدر بوجھ ہے کہ اس کی نجکاری ہی اس کا حل ہے جبکہ ڈپٹی سپیکر نے ارکان کی جانب سے اس معاملہ پر زائد سوالات اٹھانے پر اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
بدھ کو قومی اسمبلی میں شرمیلا فاروقی کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری زیب جعفر نے بتایا کہ 20 سال سے پی آئی اے خسارے میں تھا ،2024 سے منافع میں جارہا ہے،خسارے کے دوران سول ایوی ایشن سے جاری اخراجات پورے کرنے کے لئے 24 ارب روپے کا قرض لیاگیا تھا،پی آئی اے کی نجکاری ہونے جارہی ہے،پی آئی اے نے اپنا خسارہ ختم کردیا ہے، اب عالمی پروازیں بھی بحال ہوچکی ہیں.
اندرون ملک بھی پروازیں منافع میں جارہی ہیں،2024 میں 23 ارب 40 کروڑ روپے منافع ہوا ہے،2025 کی ششماہی میں 6 ارب روپے سے زائد کا منافع ہوا ہے،ائیر کرافٹس کا ریشنائلز کیا ہے،20 سال میں اس ادارے کو منافع بخش بنایا ہے۔انہوں نے بتایا کہ انگلینڈ کے لئے ہماری پروازیں بحال ہوئی ہیں،یہ پروازیں پی آئی اے کے پائلٹس کے بارے میں ایک وزیر کے بیان سے بند ہوئیں جس سے خسارے کا سامنا کرنا پڑا،یہ ایک اثاثہ ہے تاہم اس پر اس قدر قرض ہے کہ اس کی نجکاری ہی حل ہے اور اس کا فیصلہ کابینہ کمیٹی نے کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل پروازیں اپنے وقت پر ہوئی ہیں،انجینئر کے احتجاج سے اندرون ملک کچھ پروازیں متاثر ہوئیں ،ان کے سیلری پیکیج پر نظر ثانی کے لئے اسے بورڈ کو بھجوا دیا ہے۔ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس معاملہ پر ارکان کے کافی سوالات ہیں اس لئے اس معاملہ کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہیں۔








