اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر رضا حیات ہراج نے کہا ہے کہ 27 ویں ترمیم وقت کی ضرورت تھی،یہ پہلے ہونی چاہئے تھی،یہ ایوان مقدس ہے اور اس کو آئین کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کا اختیار ہے،27 ویں ترمیم میں آئین میں موجود ترامیم کو مزید واضح کیاگیا ہے،پارلیمان کی ترامیم کو کوئی عدالت ختم نہیں کرسکتی۔بدھ کو قومی اسمبلی میں 27 ویں ترمیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے …
27 ویں ترمیم وقت کی ضرورت تھی،یہ پہلے ہو جانی چاہئے تھی،یہ ایوان مقدس ہے اور اس کو آئین کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کا اختیار ہے،پارلیمان کی ترامیم کو کوئی عدالت ختم نہیں کرسکتی، رضا حیات ہراج

مزید خبریں
اسلام آباد۔12نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر رضا حیات ہراج نے کہا ہے کہ 27 ویں ترمیم وقت کی ضرورت تھی،یہ پہلے ہونی چاہئے تھی،یہ ایوان مقدس ہے اور اس کو آئین کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کا اختیار ہے،27 ویں ترمیم میں آئین میں موجود ترامیم کو مزید واضح کیاگیا ہے،پارلیمان کی ترامیم کو کوئی عدالت ختم نہیں کرسکتی۔بدھ کو قومی اسمبلی میں 27 ویں ترمیم پر اظہار خیال کرتے ہوئے رضا حیات ہراج نے کہا کہ یہ ایوان مقتدر ہے،آئین اس ایوان ،ریاست اور ملک کے لئے ایک مقدس دستاویز ہے،اس کے ڈھانچے میں تبدیلی ایوان کا اختیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2002 میں ایک جماعت کی ایک سیٹ تھی ،ان کا تقاضا تھا کہ 100 دی جائیں ورنہ ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے،دنیا بھر میں سپیکر اور چیئرمین کی کرسی کا احترام ہوتا ہے کیونکہ یہ کسٹوڈین آف ہائوس ہوتے ہیں،یہاں ایک ایک سینئر ممبر نے سپیکر کی طرف مذاکرات کی پیشکش پر کہا کہ وہ جعلی نمائندے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم حالت جنگ میں ہیں،اسلام آباد کچہری میں دھماکہ ہوا،وانا کیڈٹ کالج میں سانحہ اے پی ایس طرز کا سانحہ کرنے کی کوشش کی گئی،اس کے پیچھے کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ آئین میں ججوں کے تبادلے کی شق 200 موجود ہےجس کے مطابق صدر مملکت ججوں کا ہائی کورٹ کی سطح پر تبادلہ کرسکتے ہیں،اس شق کو مزید واضح اور آسان کیاگیا،قانون جاننے والے اس پر خاموش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیڈرل جوڈیشل کمیشن کو تبادلے کا اختیار دیا گیا ہے اس کی سفارش پر صدر عمل کرے گا۔آرٹیکل 239 جوڈیشل ریویو کا اختیار ہے،اس کو آئین کے دائرے میں لائے ہیں کہ پارلیمان سپریم ہے اور وہی آئین کو تبدیل کرسکتی ہے،یہ اختیار اس کا ہے۔کسی عدالت کی جانب سے کسی ترمیم کو ختم کرنا اس پارلیمان کی توہین ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور ایک نئی کمانڈ بنانے جارہے ہیں،نیشنل سٹرٹیجک آفس کے قیام سے دنیا تک یہ پیغام جائے گا کہ 11 ممالک میں ذمہ دار ترین ممالک میں ہمارا شمار ہے،پاکستان نے کسی ایک شق کی خلاف ورزی کا نہیں سوچا۔
انہوں نے کہا کہ صدر کے استثنیٰ کی شق کا مقصد یہ نہیں کہ کوئی چوری چھپائی جارہی ہے۔صدر،گورنر،وزیر اعظم،وزراء آئین کے تحت کسی عدالت کو جوابدہ نہیں ہے،انہیں اس کا استثنیٰ حاصل ہے،اس میں کوئی نئی ترمیم نہیں کی گئی۔رضا حیات ہراج نے کہا کہ 10 مئی 2025 کی جنگ کی فتح میں بڑا کردار تینوں مسلح افواج کا ہے،ایئر چیف قابل ترین آفیسر ہیں،پانچ سال قبل ایک دن پاکستان اتحادی اور اگلے دن پابندیوں میں زد میں تھا،
فیلڈ مارشل کے اقدامات کی جھلک مئی کی جنگ میں نظر آئی۔نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ بنائی گئی،ماضی کی غلطیوں کو سٹریم لائن کیاگیا،دنیا کے مختلف ممالک میں فیلڈ مارشل کو استثنیٰ حاصل ہے،دنیا میں 10 مئی کے بعد پاکستان کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال ہوئی ہے،ان ترامیم کی ضرورت تھی ان کو پہلے آنا چاہئے تھا۔








