40 سے 50 ہزار دہشت گردوں کی آبادکاری بدامنی کی بنیادی وجہ ہے، عوام کو وفاق سے 8500 ارب ہڑپ کرنے والی کے پی حکومت کے رحم و کرم پرنہیں چھوڑا جا سکتا، وفاقی وزیر حنیف عباسی

40 سے 50 ہزار دہشت گردوں کی آبادکاری بدامنی کی بنیادی وجہ ہے، عوام کو وفاق سے 8500 ارب ہڑپ کرنے والی کے پی حکومت کے رحم و کرم پرنہیں چھوڑا جا سکتا، وفاقی وزیر حنیف عباسی

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرونی ایجنڈے کے تحت ملک پر مسلط کی گئی جس کا افغانستان میں موجود وار لارڈز کے گٹھ جوڑ کے ساتھ گہرا تعلق اب بے نقاب ہو چکا ہے، خیبرپختونخوا کی حکومت دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہونے کے بجائے دہشت گردوں کی سہولت کار بن چکی ہے، وفاق کے پی کے کے غیور عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا اور اگر موجودہ صوبائی حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو وہاں عوام کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ناممکن ہو جائے گا۔

بدھ کو پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے ہمیشہ معصوم کارکنوں کو اپنے مذموم مقاصد کی آگ کا ایندھن بنایا اور مشکل وقت میں انہیں تنہا چھوڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ 2014ء کے دھرنے، 9 مئی، اکتوبر اور نومبر 2024ء کے واقعات میں کارکنوں کو اداروں کے خلاف اکسایا گیا جبکہ خود قیادت نے نہ تو قید کارکنوں کی خبر لی اور نہ ہی جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کی۔حنیف عباسی نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین پر 27 سے 28 وار لارڈز قابض ہیں جنہیں بھارت سے فنڈنگ اور اسرائیل سے انٹیلی جنس معلومات مل رہی ہیں اور پی ٹی آئی قیادت ماضی میں 40 سے 50 ہزار دہشت گردوں کو واپس لا کر بسانے کی مجرم ہے جس کے نتائج آج بدامنی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 6200 واقعات اور 1200 شہادتیں ہوئیں جبکہ رواں سال کے 14 حملوں سمیت ہونے والے 37 خودکش دھماکوں میں سے 97 فیصد حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے تھا۔

وفاقی وزیر نے مالی و انتظامی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کے پی حکومت کو 2010ء سے 2025ء کے دوران این ایف سی کی مد میں 8500 ارب روپے جاری کیے گئے مگر انہوں نے عوام کو صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا۔ صوبائی پولیس کے لیے مانگے گئے 42 ارب روپے میں سے عملی طور پر صرف ایک ارب 20 کروڑ روپے جاری کیے گئے جبکہ 17 ہزار آسامیاں اب بھی خالی ہیں، سی ٹی ڈی کے پاس محض 17 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں اور پولیس فورس کے 13 ہزار اہلکار غیر متعلقہ افراد کے وی آئی پی پروٹوکول پر تعینات کر رکھے ہیں۔

انہوں نے بلوچستان حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی قیادت دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ خیبرپختونخوا کی قیادت شہداء کے جنازوں میں شرکت تک گوارا نہیں کرتی اور ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث ہے۔حنیف عباسی نے واضح کیا کہ ریاست ایک ماں کی طرح ہے اور وہ اپنے شہریوں کے دفاع کی ذمہ داری پوری کرے گی۔ 9 مئی جیسے انتشار پسندانہ اقدامات کا اعادہ اب کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے والے بیرونی آلہ کاروں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کا ہر سطح پر مکمل محاسبہ کیا جائے گا۔