اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ 6 نومبر 1947ء کا دن بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے،اس دن ڈوگرہ راج کی افواج اور آر ایس ایس کے مسلح جتھوں نے ریاستی سرپرستی میں جموں کے لاکھوں نہتے مسلمانوں کو شہید کر کے ظلم و بربریت کی ایک ایسی مثال …
6 نومبر 1947ء کا دن بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، انجینئر امیر مقام

مزید خبریں
اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ 6 نومبر 1947ء کا دن بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے،اس دن ڈوگرہ راج کی افواج اور آر ایس ایس کے مسلح جتھوں نے ریاستی سرپرستی میں جموں کے لاکھوں نہتے مسلمانوں کو شہید کر کے ظلم و بربریت کی ایک ایسی مثال قائم کی جو آج بھی انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ قتلِ عام ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کا مقصد مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنا اور خطے کی آبادیاتی شناخت کو مسخ کرنا تھا،یہ سانحہ ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی جبر، محاصرے، مواصلاتی بندشوں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے باوجود آج بھی اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ جدوجہد اُس تاریخی تسلسل کا حصہ ہے جسے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی بھارتی اقدامات نے مزید سنگین بنا دیا جب بھارت نے آئین کی دفعات 370 اور 35-اے منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت چھین لی۔
انہوں نے کہا کہ ہم حریت قیادت کی قربانیوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جو بھارتی قید و بند کے باوجود اپنے عوام کے حق کے لئے ڈٹے ہوئے ہیں، پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کے انسانی حقوق کی آواز بلند کرتا رہے گا، یہاں تک کہ انصاف اور آزادی کا دن آ جائے۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ پاکستان اس موقع پر جموں کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لئے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق ہے جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ جولائی 2025ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد’’تنازعات کے پُرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے‘‘نے بھی ان قراردادوں کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔








