اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی (فوسپا) فوزیہ وقار نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی خاتون کو زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برخاست کرنا صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔ فوسپا نے نجی کمپنی ایمبریس آئی ٹی (Embrace IT) پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو نوکری پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ فیصلہ …

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی):وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی (فوسپا) فوزیہ وقار نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی خاتون کو زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برخاست کرنا صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔ فوسپا نے نجی کمپنی ایمبریس آئی ٹی (Embrace IT) پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو نوکری پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ فیصلہ زینب زہرہ اعوان کی جانب سے دائر شکایت پر سنایا گیا، جنہیں مارچ سے جون 2024 تک زچگی کی چھٹی دی گئی تھی
تاہم کمپنی نے انہیں اپریل کے دوران اچانک ملازمت سے برخاست کر دیا۔ فوسپا کے فیصلے کے مطابق، کمپنی کو ہدایت کی گئی ہے کہ 8 لاکھ روپے معاوضہ متاثرہ خاتون کو ادا کرے جبکہ 2 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ زچگی کے دوران روزگار کا تحفظ خواتین کا بنیادی حق ہے، جسے کسی بھی ادارے کے صوابدیدی فیصلے سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ فوزیہ وقار نے کہا کہ ماں بننا کسی عورت کے کیریئر کے لیے رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے،محفوظ زچگی ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا آئین، CEDAW (Convention on the Elimination of All Forms of Discrimination Against Women) اور ILO کے معاہدے خواتین کے مساوی حقوق، باعزت روزگار اور زچگی کے دوران تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔فوسپا کے اس فیصلے کو ملک میں خواتین کے کام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ادارے نے تمام نجی و سرکاری تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ واضح زچگی رخصت پالیسی مرتب کریں اور خواتین کے لیے محفوظ، مساوی اور باعزت کام کا ماحول فراہم کریں۔








