احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا بیان

اسلام آباد ۔ 28 مئی (اے پی پی) احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ممبر قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف دائر ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز نے اپنا بیان مکمل کر لیا ہے، ریفرنس کی سماعت (آج ) منگل تک ملتوی کر دی گئی ہے، کیپٹن (ر) محمد صفدر عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے …

اسلام آباد ۔ 28 مئی (اے پی پی) احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ممبر قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف دائر ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز نے اپنا بیان مکمل کر لیا ہے، ریفرنس کی سماعت (آج ) منگل تک ملتوی کر دی گئی ہے، کیپٹن (ر) محمد صفدر عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب دیں گے۔ پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس کی سماعت کی ۔ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدرعدالت میں پیش ہوئے۔ مریم نواز نے احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے 128سوالات کے جواب میں اپنا بیان جاری رکھا۔ مریم نواز نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی لندن فلیٹس کی مالک نہیں رہیں اور نہ وہ نیلسن اور نیسکول کی بینیفیشل آنر ہیں، ان کمپنیوں سے کبھی کوئی مالی فائدہ لیا نہ کوئی اور نفع۔ مریم نواز نے کہا کہ موزیک فونسیکا کا 22 جون 2012 کا خط پرائمری دستاویز نہیں جب کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءکا پیش کیا گیا 3 جولائی 2017 کا خط بھی بطور شواہد عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ پرائیویٹ فرم کے خط میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ خط براہ راست جے آئی ٹی کو بھیجا گیا جو کہ قانون کے مطابق نہیں، خط میں درج دستاویزات پیش نہیں کی گئیں اور جس طرح یہ خط پیش کیا گیا اس کی ساکھ پر سنجیدہ شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مریم نواز اپنے دفاع میں بطور گواہ بلانا چاہیں تو بلالیں۔