اسلام آباد ۔31 مئی (اے پی پی) وزیر خارجہ انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ جمہوری حکومتوں کیساتھ بات چیت نہیں کرتا، دیرپا تعلقات قائم نہیں ہو سکتے، امریکی سوچ میں ارتقا نہیں، پاکستان نے جب بھی دہشت گردی کیخلاف موثر قدامات کئے، امریکی امداد اور تعاون میں کمی آئی، امریکی موجودگی کے باوجود افغانستان میں داعش کا منظم ہونا ایک سوالیہ نشان ہے، پاکستان نے …
وزیر خارجہ انجینئر خرم دستگیر کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے موجودہ حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی بارے صحافیوں کو بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔31 مئی (اے پی پی) وزیر خارجہ انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ جمہوری حکومتوں کیساتھ بات چیت نہیں کرتا، دیرپا تعلقات قائم نہیں ہو سکتے، امریکی سوچ میں ارتقا نہیں، پاکستان نے جب بھی دہشت گردی کیخلاف موثر قدامات کئے، امریکی امداد اور تعاون میں کمی آئی، امریکی موجودگی کے باوجود افغانستان میں داعش کا منظم ہونا ایک سوالیہ نشان ہے، پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی علاقائی بحالی کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں پاکستان دہشت گردی،توانائی بحران اور گرتی ہوئی معیشت کے تاریک دور سے ایک پر امن، اقتصادی لحاظ سے فعال اور توانائی میں خود کفیل ملک کے طور پرابھر کر سامنے آیا ہے۔ جمعرات کو یہاں دفتر خارجہ کے ترجمان کے ہمراہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے موجودہ حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران مشکل سٹریٹجک ماحول اور دہشت گردی وشدت پسندی کیخلاف جنگ میں ہم نے متعدد چیلنجوں کا سامنا کیا اور ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کی علاقائی بحالی کے زریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔








