وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد ۔31 مئی (اے پی پی)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 31وین آئینی ترمیم کے تناظر میں سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کی سہولت کیلئے مختلف ٹیکسوں میں چھوٹ اور دیگر مراعات کی منظوری دےدی۔ ای سی سی کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت جمعرات کو وزیراعظم آفس میں ہوا۔ ای سی سی نے 31 ویں آئینی ترمیم کے بعد سابق فاٹا …

اسلام آباد ۔31 مئی (اے پی پی)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 31وین آئینی ترمیم کے تناظر میں سابق فاٹا اور پاٹا کے عوام کی سہولت کیلئے مختلف ٹیکسوں میں چھوٹ اور دیگر مراعات کی منظوری دےدی۔ ای سی سی کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت جمعرات کو وزیراعظم آفس میں ہوا۔ ای سی سی نے 31 ویں آئینی ترمیم کے بعد سابق فاٹا اور پاٹا کے لوگوں کےلئے مختلف ٹیکسوں کی چھوٹ اور دیگر مراعات کی منظوری دی۔ ای سی سی نے آئندہ پانچ سالوں کےلئے فاٹا اور پاٹا کے عوام کےلئے جن مختلف ٹیکسوں میں چھوٹ دی ہے ان میں افراد کی جانب سے جاری کاروبار کے منافع پر انکم ٹیکس سے چھوٹ شامل ہے تاہم انہیں اپنے کاروبار 30 ستمبر 2018ءتک ایف بی آر میں رجسٹرڈ کرانا ہوں گے۔ عام صارفین کی سہولت کیلئے ریٹیلرز کو سیلز ٹیکس میں چھوٹ جبکہ بجلی کے گھریلو صارفین کو گھریلو استعمال کی بجلی پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔ اسی طرح سابق سنٹرل ایکسائز ایکٹ 1944ئ، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005ءسے تبدیل ہو گا۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں پانچ سال کیلئے استعمال ہو سکیں گی جس کی مدت 30 جون 2023ءہو گی تاہم ان گاڑیوں کو ملک کے دیگر حصوں میں لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی، پانچ سال کی رعایتی مدت کے خاتمہ پر نان کسٹم پیڈ گاڑیاں قابل اطلاق ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی ادائیگی پر ریگولرائز کی جائیں گی۔