وفاقی وزیر انسانی حقوق ممتاز تارڑ کی پریس بریفنگ

اسلام آباد ۔31 مئی (اے پی پی)حکومت ، آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے، خواتین، بچوں، معذور افراد، اقلیتوں سمیت دیگر طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران 10 نئے قوانین کی منظوری دی ہے، انسانی حقوق کے نفاذ کے جائزہ کیلئے قومی ٹاسک فورس برائے انسانی حقوق کا قیام عمل میں …

اسلام آباد ۔31 مئی (اے پی پی)حکومت ، آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے، خواتین، بچوں، معذور افراد، اقلیتوں سمیت دیگر طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران 10 نئے قوانین کی منظوری دی ہے، انسانی حقوق کے نفاذ کے جائزہ کیلئے قومی ٹاسک فورس برائے انسانی حقوق کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، انسانی حقوق سے متعلق شہریوں میں آگاہی اور شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی مہم بھی شروع کی گئی، وفاقی اور صوبائی سطح پر بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق انسانی حقوق کے نفاذ کیلئے ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیلز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے پریس بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران زنا بالجبر، غیرت کے نام پر قتل، تحفظ اطفال، ہندو میرج ایکٹ، خواجہ سرا سے متعلق قوانین، مصیب زدہ قیدی خواتین سے متعلق قانون سازی، قانون سازی سمیت قیدی بچوں سے متعلق بھی نئے قوانین بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے قومی لائحہ عمل برائے انسانی 2016ءمیں قائم کیا جسے نافذ کیا جا رہا ہے، یہ لائحہ عمل پالیسی اور قانونی اصلاحات کیلئے اقدامات تجویز کرتا ہے۔