عام انتخابات 2018 میںسیاسی جماعتوں کے سربراہان اور اہم رہنما ایک سے زائد حلقوں سے میدان میں اتر رہے ہیں

عام انتخابات 2018 میںسیاسی جماعتوں کے سربراہان اور اہم رہنما ایک سے زائد حلقوں سے میدان میں اتر رہے ہیں عمران خان قومی اسمبلی کے پانچ اورشہباز شریف چار حلقوں کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے دو حلقوں سے امیدوار ہیں، بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کی تین نشستوں سے امیدوار ہیں وہ این اے 8 مالاکنڈ، این اے 200 لاڑکانہ، این اے 246لیاری سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ …

عام انتخابات 2018 میںسیاسی جماعتوں کے سربراہان اور اہم رہنما ایک سے زائد حلقوں سے میدان میں اتر رہے ہیں
عمران خان قومی اسمبلی کے پانچ اورشہباز شریف چار حلقوں کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے دو حلقوں سے امیدوار ہیں، بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کی تین نشستوں سے امیدوار ہیں وہ این اے 8 مالاکنڈ، این اے 200 لاڑکانہ، این اے 246لیاری سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان قومی اسملی کے دو حلقوں این اے 38 اور 39 ڈیرہ اسماعیل سے امیدوار ہیں

اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی)عام انتخابات 2018 میںسیاسی جماعتوں کے سربراہان اور اہم رہنما ایک کے بجائے کئی حلقوں سے میدان میں اتر رہے ہیں جس میں سب سے نمایاں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف ہیں ۔عمران خانقومی اسمبلی کے حلقوں این اے 53 اسلام آباد، این اے 95 میانوالی، این اے 243 کراچی، این اے 131 لاہوراور این اے 35 بنوں سے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے صدرشہباز شریفقومی اسمبلی کے چار حلقوں این اے 132لاہور، این اے 249 کراچی، این اے 3 سوات این 294 ڈیرہ غازی خان اور پنجاب اسمبلی کے دو حلقوں پی پی 164اور پی پی 165سے بھی امیدوار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کی تین نشستوں سے امیدوار ہیں وہ این اے 8 مالاکنڈ، این اے 200لاڑکانہ، این اے 246لیاری سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان قومی اسملی کے دو حلقوں این اے 38، این اے 39 ڈیرہ اسماعیل سے امیدوار ہیں۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسیقومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 53 اسلام آباد اور این اے 57مری کہوٹہ سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔قومی اسمبلی کی نشست این اے 53 پران کا مقابلہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ہوگا۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 59 کلرسیدان روات اور این اے 63 ٹیکسلا کے علاوہ پی پی 10اور پی پی 12سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے راہنماءخواجہ سعد رفیققومی اسمبلی کے حلقہ این اے 132لاہوراور پی پی 168لاہور سے حصہ لے رہے ہیں۔لاہور میں ان کا مقابلہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ہوگا ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خاناپنے آبائی حلقہ این اے 24 چارسدہ سے الیکشن لڑرہے ہیں۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد قومی اسمبلی کے راولپنڈی سے دو حلقوں این اے 60اور این اے 62 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلی کے پی کے پرویز خٹک قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر انتخاب لڑیں گے، وہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 25 نوشہرہ، پی کے 61 اور پی کے 62 سے امیدوار ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے صاحبزادی مریم نوازقومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 لاہور اور پی پی 173 سے امیدوار ہیں۔ تحریک انصاف کے راہنماءشاہ محمود قریشی قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 156ملتاناور این اے 221 تھرپارکرسے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ سبق وزیر خارجہخواجہ محمد آصف اپنے آبائی علاقے سیالکوٹ سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑیں گے۔سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادققومی اسمبلی کے حلقہ این اے 129لاہور سے امیدوار ہیں۔ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں اس حلقے پر سردار ایاز صادق کا مقابلہ پی ٹی آئی امیدوار علیم خان سے ہوگا۔