پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کی سنگین کارروائیوں میں ملوث مزید 12 خطر ناک دہشت گردوں کی سزائے موت کے فیصلوں کی توثیق کردی

راولپنڈی ۔ 13 جولائی (اے پی پی) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کی سنگین کارروائیوں میں ملوث مزید 12 خطر ناک دہشت گردوں کی سزائے موت کے فیصلوں کی توثیق کردی ہے۔ یہ دہشت گرد مسلح افواج ،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر حملوں کے علاوہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملوں میں بھی ملوث تھے۔ دہشت گردی کی ان …

راولپنڈی ۔ 13 جولائی (اے پی پی) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کی سنگین کارروائیوں میں ملوث مزید 12 خطر ناک دہشت گردوں کی سزائے موت کے فیصلوں کی توثیق کردی ہے۔ یہ دہشت گرد مسلح افواج ،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں پر حملوں کے علاوہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملوں میں بھی ملوث تھے۔ دہشت گردی کی ان کاروائیوں کے دوران 7سویلین سمیت 96 سکیورٹی اہلکار شہید اور 58 زخمی ہوئے تھے۔ 6 دہشت گردوں کو مختلف مدتوں کی سزائیں دی گئی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق غنی رحمن ولد فضل رحمن کالعدم تنظیم کا رکن تھا، یہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملوں میں ملوث تھا جس میں 4افراد شہید اور 21 زخمی ہوئے تھے۔ یہ مسلح افواج پر حملوں میں بھی ملوث تھا جس کے نتیجہ میں کیپٹن فصیح بابر امین اور تین اہلکار شہید اور 12افراد زخمی ہوئے تھے۔ ٹرائل کورٹ اور مجسٹریٹ کے سامنے تمام جرائم کا اعتراف کرنے پر اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ عبدالغازی ولد سبیل خان کالعدم تنظیم کا متحرک رکن تھاجس کے حملوں کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل محمد یوسف، حوالدار محمد طاہراور تین فوجی جوان شہید اور 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ٹرائل کورٹ اور مجسٹریٹ کے سامنے تمام جرائم کا اعتراف کرنے پر اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ضیاءالرحمن ولد پیرزادہ، جاوید خان ولد نورزادہ کالعدم تنظیم کے متحرک رکن تھے۔ انہوں نے ایس پی ایلیٹ فورس بنوں میجر (ر) خیر الحسیب سمیت 7 افراد کو شہید کیا۔ ٹرائل کورٹ اور مجسٹریٹ کے سامنے تمام جرائم کا اعتراف کرنے پر اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔