اسلام آباد ۔ 7 اگست(اے پی پی)وزارت منصوبہ بندی و ترقیات نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کی موزونیت پر اٹھائے جانے والے سوالات کو یکطرفہ، حقائق کے برعکس اور سی پیک منصوبہ کی سمجھ بوجھ سے عاری افراد کے مذموم عزائم قرار دیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس منصوبہ سے پاکستان پر قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ پیدا ہو گا۔ منگل کو وزارت کی جانب سے …
وزارت منصوبہ بندی و ترقیات کا مغربی میڈیا میں سی پیک کے حوالہ سے شائع ہونے والی رپورٹس پر ردعمل

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 7 اگست(اے پی پی)وزارت منصوبہ بندی و ترقیات نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کی موزونیت پر اٹھائے جانے والے سوالات کو یکطرفہ، حقائق کے برعکس اور سی پیک منصوبہ کی سمجھ بوجھ سے عاری افراد کے مذموم عزائم قرار دیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس منصوبہ سے پاکستان پر قرضوں کا ناقابل برداشت بوجھ پیدا ہو گا۔ منگل کو وزارت کی جانب سے مغربی میڈیا میں سی پیک کے حوالہ سے شائع ہونے والی رپورٹس پر ردعمل میں کہا گیا ہے کہ تعمیری تنقید اور ماہرین اور تجزیہ کاروں کی سفارشات کا ہمیشہ خیرمقدم کیا گیا ہے تاہم یہ بات اہمیت کی حامل ہے، اس قسم کی تنقید کرنے والا باخبر ہو اور اس کے پاس جانبدارانہ رائے کی بجائے حقائق پر مبنی اطلاعات اور تحقیق کی بنیاد پر معلومات ہوں۔ ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ سی پیک منصوبہ ایک جامع مالیاتی پیکیج کے تحت طویل المدتی دو حکومتوں کی سطح پر رعایتی اور ترجیحی قرضوں پر مشتمل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ چین کی حکومت کی جانب سے گرانٹس بھی شامل ہیں، ان قرضوں کی ادائیگی مستقبل قریب میں شروع نہیں ہو گی، سی پیک میں توانائی کا شعبہ کلیدی ترجیح ہے جو ہماری توانائی کی فوری ضرورت پوری کرنے کیلئے ہے، چینی کمپنیاں پاکستان میں آئی پی پیز طرز پر توانائی کے شعبہ میں سرماریہ کاری کر رہی ہیں اور وہ چینی بینکوں اور سرمایہ کاروں کی طرف سے فنڈز لے رہی ہیں جو حکومت پاکستان کی قرض ذمہ داریوں میں نہیں آتا۔








