چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 7 اگست (اے پی پی) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانی کامسئلہ سنگین صورت اختیار کرگیاہے، اس معاملے میں ہر شخص اپنا کردارادا کرے،عدالت آئین کے مطابق آبی منصوبوں کی تعمیراور کامیابی کیلئے ہرممکن مدد فراہم کرے گی ، وہ منگل کوسپریم کورٹ میں دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جس کااجلاس سپریم کورٹ …

اسلام آباد ۔ 7 اگست (اے پی پی) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانی کامسئلہ سنگین صورت اختیار کرگیاہے، اس معاملے میں ہر شخص اپنا کردارادا کرے،عدالت آئین کے مطابق آبی منصوبوں کی تعمیراور کامیابی کیلئے ہرممکن مدد فراہم کرے گی ، وہ منگل کوسپریم کورٹ میں دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جس کااجلاس سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں منعقد کیا گیا اس موقع پر چیئرمین واپڈا نے ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے متعلق چار رکنی بنچ کو بریفنگ دی، چار رکنی بینچ میںچیف جسٹس میاں ثاقب نثار۔ جسٹس عمر عطابندیال۔ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے، چیئرمن واپڈا نے بریفنگ دیتے ہوئے بنچ کوبتایا کہ پانی نہ صرف پاکستان بلکہ تمام دنیا کیلئے اہمیت کا حامل ہے، اس وقت پاکستان میں دو تہائی پانی مقبوضہ کشمیر سے آتا ہے، پانی کی ضرورت کے پیش نظر پاکستان کو ہر دس سال میں ایک ڈیم بنانے کی ضرورت ہے، چیرمین واپڈا نے مزید بتایا کہ موجود ہ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان نوجوان اورمتحرک آدمی ہیں وہ دیا میر بھاشاڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں اچھا کام کررہے ہیں، ان کاکہناتھا کہ اگرہم ہمت اورمحنت کریں تواپنے ملک میں 42 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں،داسو رن آف رور پر ایک منصوبہ ہے ہم اگر دیامیر بھاشا شروع کرتے ہیں تو اس کی تعمیر میں دس سال لگیں گے۔

مزید خبریں