اسلام آباد ۔ 21 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وراثت میں عورتوں کے حصہ کے حوالہ سے مسائل کے حل کے لئے ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے‘ خواتین کے دو قوانین سمیت انسانی حقوق کے 9 قوانین ایوان میں لائے ہیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر انسانی …
وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وراثت میں عورتوں کے حصہ کے حوالہ سے مسائل کے حل کے لئے ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے‘ خواتین کے دو قوانین سمیت انسانی حقوق کے 9 قوانین ایوان میں لائے ہیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے پچھلی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا۔ عورتوں کو ان کے حقوق بڑے عرصے سے نہیں مل رہے۔ہم نے 9 قوانین بھیجے ہیں جن میں سے دو خواتین سے متعلق ہیں۔ نجی آرگنائزیشن کا ڈیٹا غلط ہے۔ اس سے ایوان کو آگاہ کروں گی۔ وراثت میں عورتوں کے حصہ کے حوالہ سے مسائل کے حل کے لئے ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔ طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں معذور افراد کے لئے ریمپ ہونے چاہئیں اور اے ٹی ایم مشینوں کو معذور افراد کے لئے پیڈ فرینڈلی بنایا جائے گا تاکہ ان کے لئے آسانی پیدا ہو سکے۔








